Friday, 23 July 2021

دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

 دل پہ جذبوں کا راج ہے صاحب

عشق اپنا مزاج ہے صاحب 

دشت کی ریت ہے بہت پیاسی 

آبلوں کا خراج ہے صاحب

آپ کو بھول ہی نہیں پاتی 

میرا کوئی علاج ہے صاحب 

سانس بھی ٹھیک سے نہیں آتا 

نفرتوں کا رواج ہے صاحب 

کچھ بھی بدلا نہیں ہے دنیا میں 

جو بھی کل تھا وہ آج ہے صاحب 

میرا حصہ نہیں مقدر میں 

یہ مِرا احتجاج ہے صاحب 


لبنیٰ صفدر

No comments:

Post a Comment