بکاؤ میڈیا کے نام
کوئی سرحد پہ لڑتا ہے
کسی کے بھاؤ بڑھتے ہیں
کسی کا گھر اُجڑتا ہے
کسی کا لعل چِھنتا ہے
کسی کی مانگ جب
سندور سے محروم ہوتی ہے
تو پھر ماتم پسرتا ہے
کسی کے صندلی ہاتھوں سے
مہندی روٹھ جاتی ہے
جواں بہنیں کہیں بھائی کے غم میں
ٹوٹ جاتی ہیں
کہیں پر سوختہ آنکھیں لہو
روتی ہیں اس ڈھب سے
کہ ان کے حال پر چشم فلک کو رونا آتا ہے
کہیں معصوم کلیاں، پھول سے چہرے
خزاں کی نذر ہوتے ہیں
بہار آنے سے پہلے ہی
کہیں مہجوریاں انسان کی تقدیر بنتی ہیں
کہیں محرومیاں گردن کی خود زنجیر بنتی ہیں
کہیں پتھر کلیجے اپنے لٹ جانے پہ
روتے ہیں
کبھی سوچا ہے اے ٹی وی پہ سج کے بھونکنے والو
کہ جنگوں کے نتائج کس قدر
سنگین ہوتے ہیں
مجھے اتنا بتاؤ؟
کیا تمہارا بھائی، بیٹا، بھی وہیں پر ہے؟
جہاں پر تم نے سُلگائی ہوئی ہے
آگ نفرت کی
تمہارا بھائی بیٹا بھی ہے کوئی فوج میں بولو؟
نہیں ہے تو ذرا اک رات کی خاطر
انہیں سرحد پہ بھیجو ناں
تمہیں معلوم ہو جائے گا فوجی کیسے رہتے ہیں
کہ کیسے گھر اُجڑتے ہیں
کہ کیس لعل کھوتے ہیں
کبھی سوچا ہے اے ٹی وی پہ سج کے بھونکنے والو
کہ جنگوں کے نتائج کس قدر
سنگین ہوتے ہیں
ثمریاب ثمر
ثمر سہارنپوری
No comments:
Post a Comment