جس شخص کو عذابِ الٰہی کا ڈر نہیں
کچھ بھی دماغ اپنا کھپاؤ،۔ اثر نہیں
دہشت میں دن گُزر تو گئے ہیں کسی طرح
کیسے کٹے گی رات کسی کی خبر نہیں
گھر میں جوان بیٹی ہو تنہا تو باپ کو
لازم کسی بھی حال میں قصدِ سفر نہیں
جس شخص کو عذابِ الٰہی کا ڈر نہیں
کچھ بھی دماغ اپنا کھپاؤ،۔ اثر نہیں
دہشت میں دن گُزر تو گئے ہیں کسی طرح
کیسے کٹے گی رات کسی کی خبر نہیں
گھر میں جوان بیٹی ہو تنہا تو باپ کو
لازم کسی بھی حال میں قصدِ سفر نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بہت خوش تھا ہر اک انساں چراغِ گمرہی لے کر
تو ایسے میں رسولﷺ آئے جلو میں روشنی لے کر
خدا خود نعت کہتا ہے نبیﷺ کی دیکھیے قرآں
تو پھر ہم کیوں نہیں پہنچیں یہاں نعتِ نبیؐ لے کر
ابھی جنت نہیں قسمت میں لیکن یہ بھی کیا کم ہے
بہت سرشار رہتا ہوں مدینے کی گلی لے کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب محمد مصطفیٰﷺ تشریف لائے عرش سے
بتکدہ میں جتنے تھے بت منہ کے بل سب گر پڑے
چپکے چپکے جب عبادت ہو چکی چالیس سال
تب وحی آئی; کہ اعلانِ نبوت کیجیے
تیس دن روزہ ملا اور پانچ وقتوں کی نماز
لے کے تحفہ اُمتی کے واسطے واپس ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم خطاکار و گنہ گار رسولِ عربیﷺ
ہے بڑی آپ کی سرکار رسولِ عربی
بکریاں لے کے چراگاہ میں جالے والے
کر لیا کرتے تھے بیوپار رسولِ عربی
خدمتِ خلق وہ کرتے تھے عبادت کے لیے
ہر گھڑی رہتے تھے تیار رسولِ عربی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس نے مجھے گویائی عطا کی ذکر اسی کا کرتا ہوں
وہی پرستش کے لائق ہے اس کو ہی سجدہ کرتا ہوں
میں اس کی خوشنودی کا سامان مہیا کرتا ہوں
مدحتِ آقاﷺ کرتا ہوں اور ذکر مدینہ کرتا ہوں
کچھ اچھا کرنے کا دل میں جب بھی ارادہ کرتا ہوں
لب ہلنے لگتے ہیں میرے ذکر نبیﷺ کا کرتا ہوں
ثواب پر بھی گناہ پر بھی تمہارا قبضہ
سفید پر بھی سیاہ پر بھی تمہارا قبضہ
وزیر پر بھی اور شاہ پر بھی تمہارا قبضہ
اور ان کی پیدل سپاہ پر بھی تمہارا قبضہ
امام و مفتی و شاہ پر بھی تمہارا قبضہ
مساجد و خانقاہ پر بھی تمہارا قبضہ