زمانہ پوچھ رہا ہے مِرے سخن کا جواب
ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب
کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا
یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب
ہمیں تو بس تِری باتوں میں آنا ہوتا ہے
ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب
زمانہ پوچھ رہا ہے مِرے سخن کا جواب
ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب
کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا
یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب
ہمیں تو بس تِری باتوں میں آنا ہوتا ہے
ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب
زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب
ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب
کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا
یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب
ہمیں تو بس تِری باتوں میں آنا ہوتا ہے
ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب
تیری نسبت سے پُر وقار ہوں میں
ورنہ تو ایک خاک زار ہوں میں
جو میری خاک سے ہیں بالیدہ
وہ بھی کہتے ہیں ریگزار ہوں میں
اک تو آنے لگے ہیں گِریے کے دن
اور پہلے سے اشکبار ہوں میں
صرف تقصیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا
بات توقیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا
میں محبت کی عمارت کا تو معمار نہیں
میری تعمیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا
یار یہ بات ہے گاؤں کےسبھی پیڑوں کی
ایک شہتیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا
جہانِ دل میں اک عجب خمار رکھنا پڑا
نفیس ہوتے ہوئے بھی غبار رکھنا پڑا
وگرنہ، کوئی تعلق نہ تھا بلندی سے
بس اک وقار کی خاطر اُبھار رکھنا پڑا
تعلقات کہاں دائروں سے چلتے ہیں
مجھ ایسے فرد کو لیکن حصار رکھنا پڑا
لباسِ زیست پہ چھلکا اگر ایاغِ اجل
تو ایک عمر چمکتا رہے گا داغِ اجل
کہیں سراغرساں اس کی رفت روک نہ دیں
کچھ اس لیے بھی تو ممکن نہیں سراغِ اجل
خبر نہیں ہے کہ کس کی لپک تمام کرے
اِدھر چراغِ نظر ہے،۔ اُدھر چراغِ اجل
دکھی تو سب ہی ہیں پر ان میں عزادار کوئی
شجر تو سب ہیں مگر ان میں ثمربار کوئی
میرا بازار تلک جانا کہاں تھا ممکن
تھی یہ آواز؛ کہ آیا سرِ بازار کوئی
میں جو کہتا تھا کہ میں اب نہ سنوں گا کچھ بھی
کرتا کیا، سامنے مانوس تھی گُفتار کوئی