Showing posts with label حسین فرید. Show all posts
Showing posts with label حسین فرید. Show all posts

Thursday, 3 August 2023

زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب

 زمانہ پوچھ رہا ہے مِرے سخن کا جواب

ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب

کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا

یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب

ہمیں تو بس تِری باتوں میں آنا ہوتا ہے

ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب

Wednesday, 28 June 2023

زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب

 زمانہ پوچھ رہا ہے مرے سخن کا جواب

ریاضتیں بھی ہیں لیکن عطا ہے فن کا جواب

کوئی تو شہر سے تھک ہار کر بھی آئے گا

یہی ہے گاؤں کا جنگل کا اور بن کا جواب

ہمیں تو بس تِری باتوں میں آنا ہوتا ہے

ہمارے فہم میں اتنا ہے بھولے پن کا جواب

Wednesday, 31 May 2023

تیری نسبت سے پر وقار ہوں میں

 تیری نسبت سے پُر وقار ہوں میں

ورنہ تو ایک خاک زار ہوں میں

جو میری خاک سے ہیں بالیدہ

وہ بھی کہتے ہیں ریگزار ہوں میں

اک تو آنے لگے ہیں گِریے کے دن

اور پہلے سے اشکبار ہوں میں

Sunday, 14 May 2023

صرف تقصیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

 صرف تقصیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

بات توقیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

میں محبت کی عمارت کا تو معمار نہیں

میری تعمیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

یار یہ بات ہے گاؤں کےسبھی پیڑوں کی

ایک شہتیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

Saturday, 13 May 2023

جہان دل میں اک عجب خمار رکھنا پڑا

 جہانِ دل میں اک عجب خمار رکھنا پڑا

نفیس ہوتے ہوئے بھی غبار رکھنا پڑا

وگرنہ، کوئی تعلق نہ تھا بلندی سے

بس اک وقار کی خاطر اُبھار رکھنا پڑا

تعلقات کہاں دائروں سے چلتے ہیں

مجھ ایسے فرد کو لیکن حصار رکھنا پڑا

Thursday, 11 May 2023

لباس زیست پہ چھلکا اگر ایاغ اجل

 لباسِ زیست پہ چھلکا اگر ایاغِ اجل

تو ایک عمر چمکتا رہے گا داغِ اجل

کہیں سراغرساں اس کی رفت روک نہ دیں

کچھ اس لیے بھی تو ممکن نہیں سراغِ اجل

خبر نہیں ہے کہ کس کی لپک تمام کرے

اِدھر چراغِ نظر ہے،۔ اُدھر چراغِ اجل

Sunday, 24 October 2021

دکھی تو سب ہی ہیں پر ان میں عزادار کوئی

 دکھی تو سب ہی ہیں پر ان میں عزادار کوئی

شجر تو سب ہیں مگر ان میں ثمربار کوئی

میرا بازار تلک جانا کہاں تھا ممکن

تھی یہ آواز؛ کہ آیا سرِ بازار کوئی

میں جو کہتا تھا کہ میں اب نہ سنوں گا کچھ بھی

کرتا کیا، سامنے مانوس تھی گُفتار کوئی