Showing posts with label انجم لدھیانوی. Show all posts
Showing posts with label انجم لدھیانوی. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

کانٹوں میں جو پھول کھلا ہے

 کانٹوں میں جو پھُول کھِلا ہے

جب دیکھو ہنستا رہتا ہے

ڈالی پر اک پیلا پتہ

جانے کیا گِنتا رہتا ہے

سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا

اک خُوشبو کو لے بھاگا ہے

Saturday, 24 April 2021

خود سے ملنا ملانا بھول گئے

 خود سے ملنا ملانا بھُول گئے

لوگ اپنا ٹھکانا بھول گئے

رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں

خوشبوئیں آزمانا بھول گئے

تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس

آئینے مُسکرانا بھول گئے

Tuesday, 13 April 2021

توڑ کڑیاں ضمیر کی انجم

 توڑ کڑیاں ضمیر کی انجم

اور کچھ دیر تُو بھی جی انجم

ایک بھی گام چل نہ پائے گی

ان اندھیروں میں روشنی انجم

زندگی تیز دھوپ کا دریا

آدمی ناؤ موم کی انجم

Saturday, 10 April 2021

آنکھوں میں طوفان بہت ہے

 آنکھوں میں طوفان بہت ہے

بارش کا امکان بہت ہے

راہِ وفا پر چلنے والے

یہ رستہ ویران بہت ہے

دل ہر ضِد منوا لیتا ہے

یہ بچہ شیطان بہت ہے

Friday, 20 November 2020

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

 ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں

گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں

خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں

موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں

Thursday, 19 November 2020

پیار میں تانا بانا چلتا رہتا ہے

 پیار میں تانا بانا چلتا رہتا ہے

روٹھنا اور منانا چلتا رہتا ہے

وعدے اور ارادے ٹوٹے رہتے ہیں

پینا اور پلانا چلتا رہتا ہے

نئی نویلی کلیاں کھلتی رہتی ہیں

پھولوں کا مرجھانا چلتا رہتا ہے