کانٹوں میں جو پھُول کھِلا ہے
جب دیکھو ہنستا رہتا ہے
ڈالی پر اک پیلا پتہ
جانے کیا گِنتا رہتا ہے
سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا
اک خُوشبو کو لے بھاگا ہے
کانٹوں میں جو پھُول کھِلا ہے
جب دیکھو ہنستا رہتا ہے
ڈالی پر اک پیلا پتہ
جانے کیا گِنتا رہتا ہے
سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا
اک خُوشبو کو لے بھاگا ہے
خود سے ملنا ملانا بھُول گئے
لوگ اپنا ٹھکانا بھول گئے
رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں
خوشبوئیں آزمانا بھول گئے
تیرے جاتے ہی یہ ہوا محسوس
آئینے مُسکرانا بھول گئے
توڑ کڑیاں ضمیر کی انجم
اور کچھ دیر تُو بھی جی انجم
ایک بھی گام چل نہ پائے گی
ان اندھیروں میں روشنی انجم
زندگی تیز دھوپ کا دریا
آدمی ناؤ موم کی انجم
آنکھوں میں طوفان بہت ہے
بارش کا امکان بہت ہے
راہِ وفا پر چلنے والے
یہ رستہ ویران بہت ہے
دل ہر ضِد منوا لیتا ہے
یہ بچہ شیطان بہت ہے
ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں
گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں
خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم
کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں
کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں
موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں
پیار میں تانا بانا چلتا رہتا ہے
روٹھنا اور منانا چلتا رہتا ہے
وعدے اور ارادے ٹوٹے رہتے ہیں
پینا اور پلانا چلتا رہتا ہے
نئی نویلی کلیاں کھلتی رہتی ہیں
پھولوں کا مرجھانا چلتا رہتا ہے