ان کے اندازِ کرم خاص ہوا کرتے ہیں
دل بڑھانا ہو تو دل توڑ دیا کرتے ہیں
آرزوؤں کے بھی کیا کھیل ہوا کرتے ہیں
نقش بنتے ہیں اُبھرتے ہیں مٹا کرتے ہیں
ان کا منشا ہے جسے وقت کہا کرتے ہیں
ورنہ حالات بھی انسان کو کیا کرتے ہیں
ان کے اندازِ کرم خاص ہوا کرتے ہیں
دل بڑھانا ہو تو دل توڑ دیا کرتے ہیں
آرزوؤں کے بھی کیا کھیل ہوا کرتے ہیں
نقش بنتے ہیں اُبھرتے ہیں مٹا کرتے ہیں
ان کا منشا ہے جسے وقت کہا کرتے ہیں
ورنہ حالات بھی انسان کو کیا کرتے ہیں
ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا
ٹوٹنے کے بعد ہی دل در حقیقت دل بنا
منزلیں ہی کیا نیا ہر جادۂ منزل بنا
لیکن اپنے آپ کو پہلے کسی قابل بنا
ہم فریبِ رنگ و بُو کھا کر بھی آگے بڑھ گئے
کم نگاہوں کے لیے ہر مرحلہ مشکل بنا
روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو
ہم بھی ہیں تیری طرح خود سے جدا ہونے کو
لاکھ ہو نشترِ غم سینہ کشا ہونے کو
میرا دامن نہیں پھولوں کی قبا ہونے کو
ذوقِ پرواز سنورتا ہے گرفتاری سے
ہم تہِ دام نہیں آئے رہا ہونے کو
آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں
دیکھتا ہوں وہ تماشا جو تماشا بھی نہیں
جلوہ مشتاق بھی ہوں جلوہ تقاضا بھی نہیں
حسن مجروح نظر ہو یہ گوارا بھی نہیں
زندگی ہم کو بہت دیر میں راس آئی ہے
درد کم بھی نہیں امکان مداوا بھی نہیں
رہِ الفت میں جب ترکِ توسط کا مقام آیا
نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا
اسیری کی فضا کس درجہ حسرت خیز ہوتی ہے
نشیمن کا تصور بھی جو آیا نا تمام آیا
ہماری ذات سے ہے کتنی دلچسپی زمانے کو
ہمیشہ زیر غور آیا تو بس اپنا ہی نام آیا