Showing posts with label خواجہ شوق. Show all posts
Showing posts with label خواجہ شوق. Show all posts

Thursday, 8 September 2022

ان کے انداز کرم خاص ہوا کرتے ہیں

 ان کے اندازِ کرم خاص ہوا کرتے ہیں

دل بڑھانا ہو تو دل توڑ دیا کرتے ہیں

آرزوؤں کے بھی کیا کھیل ہوا کرتے ہیں

نقش بنتے ہیں اُبھرتے ہیں مٹا کرتے ہیں

ان کا منشا ہے جسے وقت کہا کرتے ہیں

ورنہ حالات بھی انسان کو کیا کرتے ہیں

Thursday, 11 August 2022

ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا

 ایک بے حاصل طلب بے نام اک منزل بنا 

ٹوٹنے کے بعد ہی دل در حقیقت دل بنا

منزلیں ہی کیا نیا ہر جادۂ منزل بنا 

لیکن اپنے آپ کو پہلے کسی قابل بنا

ہم فریبِ رنگ و بُو کھا کر بھی آگے بڑھ گئے 

کم نگاہوں کے لیے ہر مرحلہ مشکل بنا

Friday, 5 August 2022

روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو

 روح کا کرب ہے جینے کی سزا ہونے کو

ہم بھی ہیں تیری طرح خود سے جدا ہونے کو

لاکھ ہو نشترِ غم سینہ کشا ہونے کو

میرا دامن نہیں پھولوں کی قبا ہونے کو

ذوقِ پرواز سنورتا ہے گرفتاری سے

ہم تہِ دام نہیں آئے رہا ہونے کو

Thursday, 4 August 2022

آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں

 آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں 

دیکھتا ہوں وہ تماشا جو تماشا بھی نہیں

جلوہ مشتاق بھی ہوں جلوہ تقاضا بھی نہیں 

حسن مجروح نظر ہو یہ گوارا بھی نہیں

زندگی ہم کو بہت دیر میں راس آئی ہے 

درد کم بھی نہیں امکان مداوا بھی نہیں

Sunday, 9 May 2021

رہ الفت میں جب ترک توسط کا مقام آیا

 رہِ الفت میں جب ترکِ توسط کا مقام آیا

نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا

اسیری کی فضا کس درجہ حسرت خیز ہوتی ہے

نشیمن کا تصور بھی جو آیا نا تمام آیا

ہماری ذات سے ہے کتنی دلچسپی زمانے کو

ہمیشہ زیر غور آیا تو بس اپنا ہی نام آیا