Thursday, 4 August 2022

آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں

 آگہی موت سے کم بھی نہیں رسوا بھی نہیں 

دیکھتا ہوں وہ تماشا جو تماشا بھی نہیں

جلوہ مشتاق بھی ہوں جلوہ تقاضا بھی نہیں 

حسن مجروح نظر ہو یہ گوارا بھی نہیں

زندگی ہم کو بہت دیر میں راس آئی ہے 

درد کم بھی نہیں امکان مداوا بھی نہیں

راہ پاتا ہے زمانہ مِری گمراہی سے 

منزلیں کیا مِرے آگے کوئی رستہ بھی نہیں

بعض وقتوں کے خیالات بھی کیا ہوتے ہیں 

دور تک جیسے میں تنہا بھی ہوں تنہا بھی نہیں

سابقہ ایسے ستمگر سے ہے دن رات اپنا 

یعنی قاتل بھی نہیں وہ تو مسیحا بھی نہیں

روشنی ملتی ہے دنیا کو انہی لوگوں سے 

جن کے حصے میں چراغوں کا اجالا بھی نہیں

اپنے ہی شہر میں اب اپنے شناسا کم ہیں 

دشت غربت میں عجب کیا جو شناسا بھی نہیں

ہر تباہی کا سبب ہے دل مضطر تنہا 

غم ہزار آفت جاں ہے مگر اتنا بھی نہیں

حق رفاقت کا ادا کر دیا شاید اس نے 

دل گلستاں بھی نہیں درد کا صحرا بھی نہیں

مشورے دیتے ہیں احباب مجھے شوق ایسے 

جیسے اب تک مجھے اندازہ خود اپنا بھی نہیں


خواجہ شوق

No comments:

Post a Comment