Showing posts with label اصغر نظامی. Show all posts
Showing posts with label اصغر نظامی. Show all posts

Saturday, 4 July 2026

بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے 

ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ 

اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

Thursday, 27 November 2025

بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا

 بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

لعل پتھر میں چُھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے 

ذرہ ذرہ میں خدا تھا، مجھے معلوم نہ تھا 

دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طوافِ کعبہ 

اور وہ دل میں چُھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

Friday, 9 July 2021

کسی کے درد سے وہ آشنا ہوتا تو کیا ہوتا

کسی کے درد سے وہ آشنا ہوتا تو کیا ہوتا 

کسی کے دل میں گر خوفِ خدا ہوتا تو کیا ہوتا 

خوشی رہ کر سدا مجھ سے وہ حکمِ قتل دیتا ہے 

خدا جانے اگر وہ بُت خفا ہوتا تو کیا ہوتا 

ابھی بندہ ہے وہ اس پر بھی اتنی ظلم رانی ہے 

خداوندا! اگر بندہ خدا ہوتا تو کیا ہوتا؟

Saturday, 17 April 2021

نہ پایا کچھ پتہ اس کا خدا جانے کہاں ہے وہ

نہ پایا کچھ پتہ اس کا خدا جانے کہاں ہے وہ؟

زمانے بھر میں ڈھونڈ آیا خدا جانے کہاں ہے وہ 

مؤذن سے جو پوچھا ہاتھ رکھ کر اس نے کانوں پر 

کہا مجھ کو خبر ہے کیا، خدا جانے کہاں ہے وہ 

اسے مندر میں ڈھونڈ آیا اسے مسجد میں دیکھ آیا 

نہیں ملتا نشاں اس کا، خدا جانے کہاں ہے وہ