عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمینِ شعر پہ اک خطِ نعت کھینچا تھا
پھر اُس زمیں کو فلک ہوتے میں نے دیکھا تھا
تھی ایک رات مِری آنکھ نور سے معمور
اس ایک رات نبیﷺ کا سراپا سوچا تھا
خدا احد ہے سو اس کو احد سمجھتے ہیں
امینِ وحئ خدا نے یہی بتایا تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
زمینِ شعر پہ اک خطِ نعت کھینچا تھا
پھر اُس زمیں کو فلک ہوتے میں نے دیکھا تھا
تھی ایک رات مِری آنکھ نور سے معمور
اس ایک رات نبیﷺ کا سراپا سوچا تھا
خدا احد ہے سو اس کو احد سمجھتے ہیں
امینِ وحئ خدا نے یہی بتایا تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے وارثِؑ امامِ اُممﷺ! اور کتنی دیر
بیٹھیں گے انتظار میں ہم اور کتنی دیر
مولاؑ! برائے سجدہ جبیں کا سوال ہے
پنہاں رہیں گے نقشِ قدم اور کتنی دیر
اے وارثِؑ نجاتِ بشرﷺ! یہ بتائیے؟
دیکھیں گے ہم یہ عہدِ ستم اور کتنی دیر
شہر کی رسم ہے پرانی وہی
سازشیں تازہ ہیں کہانی وہی
درد کے موسموں سے کیا امید
سب بلائیں ہیں آسمانی وہی
پھر سے کھینچو حفاظتوں کے حصار
پھر ہے دریاؤں کی روانی وہی
اپنے ہی لوگ، اپنے نگر، اجنبی لگے
واپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگے
خانوں میں بٹ چکی تھیں سمندر کی وسعتیں
دریا محبتوں کے سمٹتی ندی لگے
راتوں کی بھینٹ چڑھ گئے وہ چاند جیسے لوگ
تاریکیوں کے دیو جنہیں کاغذی لگے
روتے روتے آنکھ ہنسے تو ہنسنے دو
ہونٹوں پر مسکان کو زندہ رہنے دو
خوشیوں کی رُت پر بھی ان کے پہرے ہیں
بے موسم کے پھول کھلیں تو کھلنے دو
کتنا گہرا سناٹا ہے ساحل پر
لہروں سے طوفان اٹھے تو اٹھنے دو
اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میں
کچھ روز تو رہنا ہے اسی راہگزر میں
ہم پیاس کے جنگل کی کمیں گہ سے نہ نکلے
دریائے عنایت کا کنارہ تھا نگر میں
کس کے لیے ہاتھوں کی لکیروں کو ابھاریں
اپنا تو ہر اک پل ہے ستاروں کے اثر میں
خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہو گا
خوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہو گا
پھر کاسۂ سر کوچۂ قاتل میں سجیں گے
یہ کھیل تو جاری رسن و دار سے ہو گا
ہر حرف سے پھوٹے گی کرن صبحِ جنوں کی
ہر باب رقم جرأتِ اظہار سے ہو گا
کیوں بناتا ہے بار بار مجھے
کوزہ گر چاک سے اُتار مجھے
یوں نہ ہو تاب ہی نہ لائے کوئی
اس قدر کر نہ تاب دار مجھے
جاتے جاتے فقیر بستی سے
کر گیا مجھ پر آشکار مجھے