Showing posts with label قیصر عباس. Show all posts
Showing posts with label قیصر عباس. Show all posts

Thursday, 20 March 2025

زمین شعر پہ اک خط نعت کھینچا تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زمینِ شعر پہ اک خطِ نعت کھینچا تھا

پھر اُس زمیں کو فلک ہوتے میں نے دیکھا تھا 

تھی ایک رات مِری آنکھ نور سے معمور 

اس ایک رات نبیﷺ کا سراپا سوچا تھا 

خدا احد ہے سو اس کو احد سمجھتے ہیں

امینِ وحئ خدا نے یہی بتایا تھا

Thursday, 23 November 2023

اے وارث امام امم اور کتنی دیر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے وارثِؑ امامِ اُممﷺ! اور کتنی دیر

بیٹھیں گے انتظار میں ہم اور کتنی دیر

مولاؑ! برائے سجدہ جبیں کا سوال ہے

پنہاں رہیں گے نقشِ قدم اور کتنی دیر

اے وارثِؑ نجاتِ بشرﷺ! یہ بتائیے؟

دیکھیں گے ہم یہ عہدِ ستم اور کتنی دیر

Saturday, 16 July 2022

شہر کی رسم ہے پرانی وہی

 شہر کی رسم ہے پرانی وہی

سازشیں تازہ ہیں کہانی وہی

درد کے موسموں سے کیا امید

سب بلائیں ہیں آسمانی وہی

پھر سے کھینچو حفاظتوں کے حصار

پھر ہے دریاؤں کی روانی وہی

Saturday, 18 December 2021

اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگے

 اپنے ہی لوگ، اپنے نگر، اجنبی لگے

واپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگے

خانوں میں بٹ چکی تھیں سمندر کی وسعتیں

دریا محبتوں کے سمٹتی ندی لگے

راتوں کی بھینٹ چڑھ گئے وہ چاند جیسے لوگ

تاریکیوں کے دیو جنہیں کاغذی لگے

Wednesday, 24 November 2021

روتے روتے آنکھ ہنسے تو ہنسنے دو

 روتے روتے آنکھ ہنسے تو ہنسنے دو

ہونٹوں پر مسکان کو زندہ رہنے دو

خوشیوں کی رُت پر بھی ان کے پہرے ہیں

بے موسم کے پھول کھلیں تو کھلنے دو

کتنا گہرا سناٹا ہے ساحل پر

لہروں سے طوفان اٹھے تو اٹھنے دو

Tuesday, 23 November 2021

اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میں

 اب دور تلک یاد کا صحرا ہے نظر میں

کچھ روز تو رہنا ہے اسی راہگزر میں

ہم پیاس کے جنگل کی کمیں گہ سے نہ نکلے

دریائے عنایت کا کنارہ تھا نگر میں

کس کے لیے ہاتھوں کی لکیروں کو ابھاریں

اپنا تو ہر اک پل ہے ستاروں کے اثر میں

Saturday, 30 October 2021

خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہو گا

 خوابوں کا گزر دیدۂ بیدار سے ہو گا

خوشبو کا سفر ہر در و دیوار سے ہو گا

پھر کاسۂ سر کوچۂ قاتل میں سجیں گے

یہ کھیل تو جاری رسن و دار سے ہو گا

ہر حرف سے پھوٹے گی کرن صبحِ جنوں کی

ہر باب رقم جرأتِ اظہار سے ہو گا

Wednesday, 7 July 2021

کیوں بناتا ہے بار بار مجھے

 کیوں بناتا ہے بار بار مجھے

کوزہ گر چاک سے اُتار مجھے

یوں نہ ہو تاب ہی نہ لائے کوئی

اس قدر کر نہ تاب دار مجھے

جاتے جاتے فقیر بستی سے

کر گیا مجھ پر آشکار مجھے