اے خدا! میری مشکلوں کو ٹال دے
مجھے عمر بھر کا نہ ملال دے
تُو اتنا مجھ پر کمال کر
میرے دل کو سنبھال کر
مجھے ٹُوٹنے سے بچا کر
مجھے اپنی محبت لا زوال دے
اے خدا! میری مشکلوں کو ٹال دے
مجھے عمر بھر کا نہ ملال دے
تُو اتنا مجھ پر کمال کر
میرے دل کو سنبھال کر
مجھے ٹُوٹنے سے بچا کر
مجھے اپنی محبت لا زوال دے
محبت خشک پتوں کی مانند
کبھی یہ جھڑ نہیں سکتی
محبت مر نہیں سکتی
محبت نام ہے رب کا
کہ جس میں یہ عکس ہوتا ہے
نایاب وہ شخص ہوتا ہے
ان آنکھوں میں ان نیندوں میں
کچھ خواب سجائے بیٹھے ہیں
ہم دل والوں کی بستی میں
امید لگائے بیٹھے ہیں
ہاں منزل دور باقی ہے
کچھ سپنے ادھورے ہیں
دل مضطرب
دل مضطرب تجھے کیا خبر
ہوتی تجھ میں تاب اگر
کیوں بھٹکتا پھر تو ادھر ادھر
زرا خود کو سن زرا غور کر
تُو ہے کہاں تیرا گھر کدھر
دنیا کے پیچھے یوں دوڑ کر