Friday, 8 January 2021

دل مضطرب تجھے کیا خبر

 دل مضطرب


دل مضطرب تجھے کیا خبر

ہوتی تجھ میں تاب اگر

کیوں بھٹکتا پھر تو ادھر ادھر

زرا خود کو سن زرا غور کر

تُو ہے کہاں تیرا گھر کدھر

دنیا کے پیچھے یوں دوڑ کر

ملا سکوں کہاں کسی کو مگر

جو نہیں تیرا اس کا غم نہ کر

جو پاس ہے اس کی کر قدر

مانا کے تُو ہے آوارہ بھنور

خواہشوں کا ہے امید نگر

آتی ہیں جو تمنائیں نظر

بھر آئیں سب ہوتا اگر

ہوتا نہ دل تُو مضطرب

چل چھوڑ سب یہ یقین کر

ہر شام کے بعد آتی ہے سحر

ٹھکانہ ہے جہاں تو ادھر ٹھہر

دل لوٹ جا اپنے گھر نگر

یہ دل نگر ہے بس خدا کا گھر


نیناں غزل

No comments:

Post a Comment