دل مضطرب
دل مضطرب تجھے کیا خبر
ہوتی تجھ میں تاب اگر
کیوں بھٹکتا پھر تو ادھر ادھر
زرا خود کو سن زرا غور کر
تُو ہے کہاں تیرا گھر کدھر
دنیا کے پیچھے یوں دوڑ کر
ملا سکوں کہاں کسی کو مگر
جو نہیں تیرا اس کا غم نہ کر
جو پاس ہے اس کی کر قدر
مانا کے تُو ہے آوارہ بھنور
خواہشوں کا ہے امید نگر
آتی ہیں جو تمنائیں نظر
بھر آئیں سب ہوتا اگر
ہوتا نہ دل تُو مضطرب
چل چھوڑ سب یہ یقین کر
ہر شام کے بعد آتی ہے سحر
ٹھکانہ ہے جہاں تو ادھر ٹھہر
دل لوٹ جا اپنے گھر نگر
یہ دل نگر ہے بس خدا کا گھر
نیناں غزل
No comments:
Post a Comment