Showing posts with label آفتاب شکیل. Show all posts
Showing posts with label آفتاب شکیل. Show all posts

Monday, 20 July 2026

عشق کی عمر جب اچھال کی تھی

 عشق کی عمر جب اچھال کی تھی

کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی

دو ٹکا تھا مِرے جواب کا مول

دُھوم ہر سو تِرے سوال کی تھی

دل جو ٹُوٹا تو یاد آیا ہمیں

چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی

Sunday, 1 March 2026

جو تھا ہر آن مبتلا میرا

 جو تھا ہر آن مبتلا میرا

وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا

ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں

تو نہ کریو کبھی کہا میرا

تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے

کم ہی کم واسطہ رہا میرا

Saturday, 10 August 2024

موسم ہجر میں زخموں سے لدا رہتا ہے

موسم ہجر میں زخموں سے لدا رہتا ہے

دل وہ پودا کے جو پت جھڑ میں ہرا رہتا ہے

بس یہ اک بات مجھے لاتی ہے نزدیک تِرے

تُو بھی تو میری طرح خود سے خفا رہتا ہے

تبصرہ اتنا ہی کافی ہے محبت کے لیے

مختصر سودے میں نقصان بڑا رہتا ہے

Tuesday, 6 August 2024

خوش مزاجی کا دکھاوا بھی نہیں کر سکتے

 خوش مزاجی کا دکھاوا بھی نہیں کر سکتے

ہم وہ کاہل ہیں جو اتنا بھی نہیں کر سکتے

وہ سناتے ہیں رہائی کے فریضے سب کو

جو رہا ایک پرندہ بھی نہیں کر سکتے

کتنے مجبور ہیں ہم عام سی شکلوں والے

خود کو ایجاد دوبارہ بھی نہیں کر سکتے