عشق کی عمر جب اچھال کی تھی
کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی
دو ٹکا تھا مِرے جواب کا مول
دُھوم ہر سو تِرے سوال کی تھی
دل جو ٹُوٹا تو یاد آیا ہمیں
چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی
عشق کی عمر جب اچھال کی تھی
کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی
دو ٹکا تھا مِرے جواب کا مول
دُھوم ہر سو تِرے سوال کی تھی
دل جو ٹُوٹا تو یاد آیا ہمیں
چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی
جو تھا ہر آن مبتلا میرا
وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا
ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں
تو نہ کریو کبھی کہا میرا
تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے
کم ہی کم واسطہ رہا میرا
موسم ہجر میں زخموں سے لدا رہتا ہے
دل وہ پودا کے جو پت جھڑ میں ہرا رہتا ہے
بس یہ اک بات مجھے لاتی ہے نزدیک تِرے
تُو بھی تو میری طرح خود سے خفا رہتا ہے
تبصرہ اتنا ہی کافی ہے محبت کے لیے
مختصر سودے میں نقصان بڑا رہتا ہے
خوش مزاجی کا دکھاوا بھی نہیں کر سکتے
ہم وہ کاہل ہیں جو اتنا بھی نہیں کر سکتے
وہ سناتے ہیں رہائی کے فریضے سب کو
جو رہا ایک پرندہ بھی نہیں کر سکتے
کتنے مجبور ہیں ہم عام سی شکلوں والے
خود کو ایجاد دوبارہ بھی نہیں کر سکتے