Showing posts with label عطش نقوی. Show all posts
Showing posts with label عطش نقوی. Show all posts

Saturday, 20 August 2022

کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر سیدنا امام حسین


کونین میں اللہ کی پہچان ہے حسینؑ

ہر صاحب عرفان کا ایمان ہے حسینؑ

دیوان ہے خالق کا یہ قرآن ہے حسینؑ

تولے گا جو ایمان وہ میزان ہے حسینؑ

لہجے سے خدا ہو وہ ثناخوان ہے حسینؑ

جنت کا جو مالک ہو وہ سلطان ہے حسینؑ

Sunday, 31 October 2021

مایوس نہ ہو خود سے نہ منکر ہو خدا سے

 مایوس نہ ہو خود سے نہ منکر ہو خدا سے

دیتا ہوں شب و روز یہی خود کو دلاسے

منظور نجانے وہ دعا کیوں نہیں ہوتی

نہ دل سے خدا دور ہے نہ دستِ دعا سے

ہے جرم تیری یاد تو تنہائی مقدر

ایسے میرا جینا بھی کوئی کم ہے سزا سے

Sunday, 6 June 2021

مجھے اب بھی اس سے ہی پیار ہے

 مجھے اب بھی اس سے ہی پیار ہے


جسے نظم نظم میں لکھ دیا

جو غزل غزل کا خیال ہے

جسے یاد کر کے خلش بڑھے

جسے بھولنا بھی محال ہے

کئی وصف اس کے کمال تھے

Monday, 7 December 2020

ان کو خیال بھی تو نہیں تھا حجاب کا

 ان کو خیال بھی تو نہیں تھا حجاب کا

خانہ خراب ہو میرے سرکش سے خواب کا

جب خود کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے مجھ سے وہ

بے شک نہیں جواب تیرے انتخاب کا

گر مجھ سے تُو نفی ہو تو بچتا نہیں ہوں میں

ہاں مکتبِ وفا میں ہوں پکا حساب کا

Sunday, 6 December 2020

اس دفعہ بچھڑنے میں کچھ الگ اذیت تھی

 اس دفعہ بچھڑنے میں کچھ الگ اذیت تھی

شاید اس دفعہ مجھ کو واقعی محبت تھی

تم بھی خوبصورت ہو، ناز تم پہ جچتا ہے

ہاں مگر یہ سچ ہے وہ تم سے خوبصورت تھی

عمر بعد دیکھا تھا، ان حسِین آنکھوں کو

دیکھنے کے لائق تو آج میری حالت تھی

تاثیر کی حامل تیری گفتار نہیں ہے

تاثیر کی حامل تیری گفتار نہیں ہے

گفتار میں شامل تیرا کردار نہیں ہے

جینا ہے اگر ساتھ تو جینے کا ہنر سیکھ

جینے کا ہنر عشق سے دشوار نہیں ہے

جب مشورہ کرنا تیری تحقیر ہے جاناں

جو فیصلہ کر لے مجھے انکار نہیں ہے

Saturday, 5 December 2020

بس وہی شب شب وصال نہیں

 بس وہی شب، شبِ وصال نہیں

جس میں یادیں نہیں خیال نہیں

وہ مصور کمال ہے جاناں

تُو حسیں ہے، ترا کمال نہیں

میں تو اس کا لحاظ کرتا تھا

اس نے سمجھا مری مجال نہیں

ترتیب دے رہا تھا تری سب نشانیاں

 ترتیب دے رہا تھا تری سب نشانیاں

تازہ خمار دے گئیں یادیں پرانیاں

دونوں کو انتظار رہا، وہ پہل کرے

کتنی انا پرست ہیں اپنی جوانیاں

شاید کہ تجھ کو دیکھ کے مچلے گا ان کا دل

ہائے رے میرے دل یہ تری خوش گمانیاں

Friday, 4 December 2020

تیری یادوں سے وجد طاری ہو

 تیری یادوں سے وجد طاری ہو

دل بھی چاہے کہ اشکباری ہو

لوگ خوشیاں منا ہی لیتے ہیں

غم سے جتنی بھی رشتہ داری ہو

وقت سے پہلے کچھ نہیں ملتا

چاہے جتنی جو بے قراری ہو

مفہوم ہی بدلا ہے اداکار نے ہنس کر

 آنسو ہی نکلتے ہیں بھلے غم یا خوشی ہو

مفہوم ہی بدلا ہے اداکار نے ہنس کر

تنہائی کی بے درد صلیبیں ہیں مقدر

کچھ اور نہ پایا تیری بانہوں کو ترس کر

شہ رگ سے قریب آ، یا اسے کاٹ دے آ کر

اتنا سا ہی احسان فقط اب کے برس کر

میں نے تو کہا تھا میرے دن رات میں رہنا

 میں نے تو کہا تھا میرے دن رات میں رہنا

آتا ہی نہیں تھا اسے اوقات میں رہنا

چہرے کے تاثر کو بھلا کیسے چھپاؤں

مشکل ہے مرا تیرے مضافات میں رہنا

دنیا کا ہے نقصان، مگر چین بہت دے

ہر وقت تمہارے ہی خیالات میں رہنا