تیری یادوں سے وجد طاری ہو
دل بھی چاہے کہ اشکباری ہو
لوگ خوشیاں منا ہی لیتے ہیں
غم سے جتنی بھی رشتہ داری ہو
وقت سے پہلے کچھ نہیں ملتا
چاہے جتنی جو بے قراری ہو
تب ندامت سمجھ میں آتی ہے
جب ہو خواہش کہ پردہ داری ہو
کاش تصویر ان کی بن سکتی
جن خیالوں میں شب گزاری ہو
زندگی کا سوال تب ہو عطش
ہم نے جب زندگی گزاری ہو
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment