Friday, 4 December 2020

تیری یادوں سے وجد طاری ہو

 تیری یادوں سے وجد طاری ہو

دل بھی چاہے کہ اشکباری ہو

لوگ خوشیاں منا ہی لیتے ہیں

غم سے جتنی بھی رشتہ داری ہو

وقت سے پہلے کچھ نہیں ملتا

چاہے جتنی جو بے قراری ہو

تب ندامت سمجھ میں آتی ہے

جب ہو خواہش کہ پردہ داری ہو

کاش تصویر ان کی بن سکتی

جن خیالوں میں شب گزاری ہو

زندگی کا سوال تب ہو عطش

ہم نے جب زندگی گزاری ہو


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment