آنسو ہی نکلتے ہیں بھلے غم یا خوشی ہو
مفہوم ہی بدلا ہے اداکار نے ہنس کر
تنہائی کی بے درد صلیبیں ہیں مقدر
کچھ اور نہ پایا تیری بانہوں کو ترس کر
شہ رگ سے قریب آ، یا اسے کاٹ دے آ کر
اتنا سا ہی احسان فقط اب کے برس کر
اس پیاس کے عالم میں ہمیں آس ہو جس سے
سیلاب وہی ابر ہی لاتا ہے برس کر
افسوس میرے دل کی اداسی نہیں جاتی
دیکھا ہے عطش ہم نے کسی دل میں بھی بس کر
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment