Friday, 4 December 2020

مفہوم ہی بدلا ہے اداکار نے ہنس کر

 آنسو ہی نکلتے ہیں بھلے غم یا خوشی ہو

مفہوم ہی بدلا ہے اداکار نے ہنس کر

تنہائی کی بے درد صلیبیں ہیں مقدر

کچھ اور نہ پایا تیری بانہوں کو ترس کر

شہ رگ سے قریب آ، یا اسے کاٹ دے آ کر

اتنا سا ہی احسان فقط اب کے برس کر

اس پیاس کے عالم میں ہمیں آس ہو جس سے

سیلاب وہی ابر ہی لاتا ہے برس کر 

افسوس میرے دل کی اداسی نہیں جاتی

دیکھا ہے عطش ہم نے کسی دل میں بھی بس کر


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment