Showing posts with label اظہر سجاد. Show all posts
Showing posts with label اظہر سجاد. Show all posts

Monday, 22 September 2025

ہر طرف جبر ہے دھوکہ ہے ریاکاری ہے

 ہر طرف جبر ہے دھوکہ ہے ریاکاری ہے

اب جدھر دیکھیے جھوٹوں کی پرستاری ہے

اس میں چاہت ہے نہ رغبت نہ وفاداری ہے

یہ کوئی عشق نہیں ہے، یہ اداکاری ہے

پھر ملاقات کا طوفان اٹھا ہے دل میں

پھر سے اک بار بچھڑ جانے کی تیاری ہے

Saturday, 20 September 2025

شاید کے کرے وصل ہی بھرپائی ہماری

 شاید کے کرے وصل ہی بھرپائی ہماری

تنہائی ہوئی جاتی ہے شیدائی ہماری

ہر گام ہوئی اس لیے رسوائی ہماری

بُوجہل کیا کرتا تھا اگوائی ہماری

یہ ہم کو بزرگوں سے وراثت میں ملی ہے

تم کو نظر آتی ہے جو اچھائی ہماری

Tuesday, 22 February 2022

کیا کروں ملتی نہیں مجھ سے طبیعت اس کی

کیا کروں ملتی نہیں مجھ سے طبیعت اس کی

لاکھ انکار ہو، رہتی ہے ضرورت اس کی

آخرش مجھ سے وہ ملنے کے لیے راضی ہوا

الغرض ہو ہی گئی مجھ پہ عنایت اس کی

تم تو آزاد ہو؛ جو کچھ تمہیں کہنا ہے کہو

یار! میں کر نہیں سکتا ہوں مذمت اس کی