ہر طرف جبر ہے دھوکہ ہے ریاکاری ہے
اب جدھر دیکھیے جھوٹوں کی پرستاری ہے
اس میں چاہت ہے نہ رغبت نہ وفاداری ہے
یہ کوئی عشق نہیں ہے، یہ اداکاری ہے
پھر ملاقات کا طوفان اٹھا ہے دل میں
پھر سے اک بار بچھڑ جانے کی تیاری ہے
ہر طرف جبر ہے دھوکہ ہے ریاکاری ہے
اب جدھر دیکھیے جھوٹوں کی پرستاری ہے
اس میں چاہت ہے نہ رغبت نہ وفاداری ہے
یہ کوئی عشق نہیں ہے، یہ اداکاری ہے
پھر ملاقات کا طوفان اٹھا ہے دل میں
پھر سے اک بار بچھڑ جانے کی تیاری ہے
شاید کے کرے وصل ہی بھرپائی ہماری
تنہائی ہوئی جاتی ہے شیدائی ہماری
ہر گام ہوئی اس لیے رسوائی ہماری
بُوجہل کیا کرتا تھا اگوائی ہماری
یہ ہم کو بزرگوں سے وراثت میں ملی ہے
تم کو نظر آتی ہے جو اچھائی ہماری
کیا کروں ملتی نہیں مجھ سے طبیعت اس کی
لاکھ انکار ہو، رہتی ہے ضرورت اس کی
آخرش مجھ سے وہ ملنے کے لیے راضی ہوا
الغرض ہو ہی گئی مجھ پہ عنایت اس کی
تم تو آزاد ہو؛ جو کچھ تمہیں کہنا ہے کہو
یار! میں کر نہیں سکتا ہوں مذمت اس کی