Thursday, 4 June 2026

کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے

 کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے

حسیں درخت کے ہاتھوں میں پھل تو کڑوا ہے

تمام عمر کا ہم روگ ہی لگا بیٹھے

بڑھی نہ بات بہت دور دور یہ اچھا ہے

تمہارے خط کی تہوں کا پتہ نہیں ملتا

ہزار بار اسے کھول کھول دیکھا ہے

ہوائیں پیڑ سے آنکھیں چرا کے چلتی ہیں

کسی نے آ کے نہ پوچھا کہ حال کیسا ہے

گپھا کے پاس سے دیکھے بنا گزرتے تھے

ہزاروں سال کا اس سے خزانہ نکلا ہے

وہی زمیں ہے، وہی آسمان ہے سر پر

یہاں کے لوگوں نے اپنا لباس بدلا ہے


دیپک قمر

No comments:

Post a Comment