کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے
حسیں درخت کے ہاتھوں میں پھل تو کڑوا ہے
تمام عمر کا ہم روگ ہی لگا بیٹھے
بڑھی نہ بات بہت دور دور یہ اچھا ہے
تمہارے خط کی تہوں کا پتہ نہیں ملتا
ہزار بار اسے کھول کھول دیکھا ہے
ہوائیں پیڑ سے آنکھیں چرا کے چلتی ہیں
کسی نے آ کے نہ پوچھا کہ حال کیسا ہے
گپھا کے پاس سے دیکھے بنا گزرتے تھے
ہزاروں سال کا اس سے خزانہ نکلا ہے
وہی زمیں ہے، وہی آسمان ہے سر پر
یہاں کے لوگوں نے اپنا لباس بدلا ہے
دیپک قمر
No comments:
Post a Comment