Sunday, 28 June 2026

خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض

 خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض

دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض

رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض

گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض

دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض

ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض

نقشے ہزار لاکھ مرقع کوئی دکھائے

رکھتے ہیں ہم تو یار کی تصویر سے غرض

کس کے رفیق شہر کہاں کا کہاں کا گھر

ہے وحشیوں کے خانۂ زنجیر سے غرض

دولت کو لات مار کے بیٹھے ہیں کاخ پر

کیا تیرے خاکساروں کا اکسیر سے غرض

ٹھہرائیں غیر کو تو خطا اور کا لیے

ان کو تو اک ہے بزم کی تعزیر سے غرض


بزم آفندی

No comments:

Post a Comment