خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض
دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض
رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض
گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض
دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض
ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض
نقشے ہزار لاکھ مرقع کوئی دکھائے
رکھتے ہیں ہم تو یار کی تصویر سے غرض
کس کے رفیق شہر کہاں کا کہاں کا گھر
ہے وحشیوں کے خانۂ زنجیر سے غرض
دولت کو لات مار کے بیٹھے ہیں کاخ پر
کیا تیرے خاکساروں کا اکسیر سے غرض
ٹھہرائیں غیر کو تو خطا اور کا لیے
ان کو تو اک ہے بزم کی تعزیر سے غرض
بزم آفندی
No comments:
Post a Comment