Tuesday, 9 June 2026

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

 واپسی


میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

دور سے گھر نظر آیا روشن

ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب

پاس پہنچا تو وہ دیکھا 

جو نگاہوں میں مِری گھوم رہا ہے اب تک

روشن کمرے کے اندر

اور دہلیز پہ تم

سن کے شاید مِری چاپ

تم نکل آئی تھیں بجلی کی طرح

اور وہیں رک سی گئی تھیں

دیر تک

پاؤں دہلیز پہ چوکھٹ پہ رکھے دونوں ہاتھ

بال بکھرائے ہوئے شانوں پر

روشنی پشت پہ ہالے کی طرح

سانس کی آمد و شد تھی نہ کوئی جنبش جسم

جیسے تصویر لگی ہو

جیسے آسن پہ کھڑی ہو دیوی

میں نے سوچا ابھی تم نے مجھے پہچانا نہیں

بس اسی سوچ میں لے کر تمہیں اندر آیا

پاس بٹھلا کے کیا یوں ہی کسی بات کا ذکر

تم نے باتیں تو بہت کیں مگر ان باتوں میں

کوئی وابستگئ دل

کوئی مانوس اشارہ

لب پہ اظہار خوشی

نہ کوئی غم کی لکیر

ارے کچھ بھی تو نہ تھا

نہ وہ ہنسنا، نہ وہ رونا، نہ شکایت، نہ گِلہ

نہ وہ رغبت کی کوئی چیز پکانے کا خیال

نہ دری لا کے بچھانا نہ وہ آنگن کی لپائی کی کوئی بات

نہ نگاہوں میں یہ احساس کہ ہم تم دونوں

ہیں کوئی بیس برس سے اک ساتھ

لاکھ کوشش پہ بھی تم نے مجھے پہچانا نہیں

میں نے جانا تمہیں میں نے بھی نہیں پہچانا

ایک اشارے میں زمانہ ہی بدل جاتا ہے

سلسلہ انس و رفاقت کا کوئی آج بھی ہے

پر یہ ہے اور کوئی

جس سے باندھا ہے نیا رشتۂ زیست

میں بھی ہوں اور کوئی، جس کے ساتھ

تم بھی ہنس بول کے رہ لیتی ہو

وہ بھی تھی اور کوئی

جو وہیں رک گئی اس چوکھٹ پر

جیسے تصویر لگی ہو

جیسے آسن پہ کھڑی ہو دیوی


حبیب تنویر

No comments:

Post a Comment