Tuesday, 9 June 2026

رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے

 رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے

زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے

وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے

محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے

وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو

انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے

زمانے سے گِلہ کیسا جب اپنے جسم کا سایہ

اندھیرے میں ہمیں سے دُور ہو جائے تو کیا کیجے

خدا کو اتنا چاہوں تو خدا ہو جائے گا راضی

مگر وہ اور بھی مغرور ہو جائے تو کیا کیجے

منور جس کے دم سے تھی ہماری زندگی میتا

وہی ماہتاب گر مستور ہو جائے تو کیا کیجے


امیتا پرسورام میتا

No comments:

Post a Comment