سب پہ کھلتا نہیں یہ مسلک ہے
عشق والوں کی اپنی بیٹھک ہے
در مقفل ہے زندگانی کا
اور ہاتھوں سے لپٹی دستک ہے
خواب لیٹے ہوئے ہیں پٹڑی پر
آنکھ کی سمت بند پھاٹک ہے
سب پہ کھلتا نہیں یہ مسلک ہے
عشق والوں کی اپنی بیٹھک ہے
در مقفل ہے زندگانی کا
اور ہاتھوں سے لپٹی دستک ہے
خواب لیٹے ہوئے ہیں پٹڑی پر
آنکھ کی سمت بند پھاٹک ہے
اُداسی ہے اسے مُسکان میں تبدیل کرتے ہیں
تم آؤ تو ادھورے خواب کی تکمیل کرتے ہیں
اب اس سے بڑھ کے کیا ثابت کریں گے ہم وفاداری
کہ تم جو حکم کرتے ہو تو ہم تعمیل کرتے ہیں
ہمارے زندہ رہنے کا یہی واحد طریقہ ہے
ہم اپنی سانس اس کی سانس میں تحلیل کرتے ہیں
خاک چھانی ہے تیری راہوں کی
عاشقی کیا ہے ہم فقیروں کی
لفظ اظہار کا سلیقہ ہیں
شاعری گفتگو ہے جذبوں کی
جب سے وہ پاس آ رہا ہے مِرے
بیڑیاں کھل رہی ہیں پاؤں کی
خواب جب آنکھ کے پردے پہ اتر آتے ہیں
جسم سے روح ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ایک کشتی کے مسافر ہیں تو پھر بات سنو
ایک دوجے کا بدن اوڑھ کے چھپ جاتے ہیں
ہائے، وہ دل کہ تِری یاد بسی ہے جس میں
ہائے، وہ آنکھ جسے خواب تِرے آتے ہیں
کیا کیا بتاؤں ذات کے اندر بنی ہوئی
میں ہوں کسی کی راہ کا کنکر بنی ہوئی
آ جا کہ میرے حسن کو پگھلا کے موم کر
میں ہوں کہ تیرے ہجر میں پتھر بنی ہوئی
اک با وفا کی آنکھ سے بہتی رہی ہوں میں
اک بے وفا کی آنکھ کا منظر بنی ہوئی
دل اگرچہ کہیں گیا بھی نہیں
میرے سینے میں یہ رہا بھی نہیں
جانے کیا کر رہا ہے وہ مِرے ساتھ
بے وفائی نہیں، وفا بھی نہیں
دل کھنڈر میں مکین تھی وحشت
لمحہ بھر کو سکوں رُکا بھی نہیں
دل آشنا، رفیق، پیارا، کوئی نہ تھا
ہم ہر کسی کے اور ہمارا کوئی نہ تھا
تا عمر دوسروں کا سہارا بنی رہی
میں ٹوٹ کر گِری تو سہارا کوئی نہ تھا
کاٹی ہے میں نے یونہی اندھیروں میں زندگی
قسمت کے آسماں پہ ستارا کوئی نہ تھا
جو ہو مختصر مختصر گفتگو
سمجھئے کہ ہے معتبر گفتگو
اسی پر تو ہے رائے کا انحصار
ہے پہچان کی اک ڈگر گفتگو
کسی کو کسی بات سے دُکھ نہ ہو
سو کیجئے بہت سوچ کر گفتگو
کچھ تو اسباب بنیں، بات کرو، بارش ہو
آسماں سے ہو بھلے آنکھ سے ہو، بارش ہو
کل پہ رکھ لو یہ لڑائی کہ بہت گرمی ہے
اب مِری بات سنو ساتھ چلو، بارش ہو
اور کچھ دیر بھرم رہنے دو نم آنکھوں کا
اور کچھ دیر یونہی ہنستے رہو بارش ہو
اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے
ہمارا ہونا سوالات کے حصار میں ہے
اسے میں لمس کے منتر سے رام کر لوں گی
ابھی وہ جسم کرامات کے حصار میں ہے
ہماری آنکھ ہے رونے کی منتظر ایسے
کہ جیسے دشت بخارات کے حصار میں ہے
دنیا سمجھ رہی تھی سہارے مِرے لیے
لیکن بنے تھے بوجھ کنارے مرے لیے
اس کو خبر نہ تھی میں حقیقت پسند ہوں
وہ کہہ رہا تھا لائے گا تارے مرے لیے
آنکھوں میں اس کی کتنی محبت دکھائی دی
ڈالی سے جس نے پھول اتارے مرے لیے