Showing posts with label ناہید کیانی. Show all posts
Showing posts with label ناہید کیانی. Show all posts

Sunday, 8 January 2023

سب پہ کھلتا نہیں یہ مسلک ہے

 سب پہ کھلتا نہیں یہ مسلک ہے

عشق والوں کی اپنی بیٹھک ہے

در مقفل ہے زندگانی کا

اور ہاتھوں سے لپٹی دستک ہے

خواب لیٹے ہوئے ہیں پٹڑی پر

آنکھ کی سمت بند پھاٹک ہے

Sunday, 26 September 2021

اداسی ہے اسے مسکان میں تبدیل کرتے ہیں

 اُداسی ہے اسے مُسکان میں تبدیل کرتے ہیں

تم آؤ تو ادھورے خواب کی تکمیل کرتے ہیں

اب اس سے بڑھ کے کیا ثابت کریں گے ہم وفاداری

کہ تم جو حکم کرتے ہو تو ہم تعمیل کرتے ہیں

ہمارے زندہ رہنے کا یہی واحد طریقہ ہے

ہم اپنی سانس اس کی سانس میں تحلیل کرتے ہیں

Saturday, 18 September 2021

خاک چھانی ہے تیری راہوں کی

 خاک چھانی ہے تیری راہوں کی

عاشقی کیا ہے ہم فقیروں کی

لفظ اظہار کا سلیقہ ہیں

شاعری گفتگو ہے جذبوں کی

جب سے وہ پاس آ رہا ہے مِرے

بیڑیاں کھل رہی ہیں پاؤں کی

Wednesday, 15 September 2021

خواب جب آنکھ کے پردے پہ اتر آتے ہیں

 خواب جب آنکھ کے پردے پہ اتر آتے ہیں

جسم سے روح ملاتے ہیں چلے جاتے ہیں

ایک کشتی کے مسافر ہیں تو پھر بات سنو

ایک دوجے کا بدن اوڑھ کے چھپ جاتے ہیں

ہائے، وہ دل کہ تِری یاد بسی ہے جس میں

ہائے، وہ آنکھ جسے خواب تِرے آتے ہیں

Saturday, 28 August 2021

کیا کیا بتاؤں ذات کے اندر بنی ہوئی

 کیا کیا بتاؤں ذات کے اندر بنی ہوئی

میں ہوں کسی کی راہ کا کنکر بنی ہوئی

آ جا کہ میرے حسن کو پگھلا کے موم کر

میں ہوں کہ تیرے ہجر میں پتھر بنی ہوئی

اک با وفا کی آنکھ سے بہتی رہی ہوں میں

اک بے وفا کی آنکھ کا منظر بنی ہوئی

Sunday, 6 June 2021

دل اگرچہ کہیں گیا بھی نہیں

 دل اگرچہ کہیں گیا بھی نہیں

میرے سینے میں یہ رہا بھی نہیں

جانے کیا کر رہا ہے وہ مِرے ساتھ

بے وفائی نہیں، وفا بھی نہیں

دل کھنڈر میں مکین تھی وحشت

لمحہ بھر کو سکوں رُکا بھی نہیں

Monday, 26 April 2021

دل آشنا رفیق پیارا کوئی نہ تھا

 دل آشنا، رفیق، پیارا، کوئی نہ تھا

ہم ہر کسی کے اور ہمارا کوئی نہ تھا

تا عمر دوسروں کا سہارا بنی رہی

میں ٹوٹ کر گِری تو سہارا کوئی نہ تھا

کاٹی ہے میں نے یونہی اندھیروں میں زندگی

قسمت کے آسماں پہ ستارا کوئی نہ تھا

Monday, 19 April 2021

جو ہو مختصر مختصر گفتگو

 جو ہو مختصر مختصر گفتگو

سمجھئے کہ ہے معتبر گفتگو

اسی پر تو ہے رائے کا انحصار

ہے پہچان کی اک ڈگر گفتگو

کسی کو کسی بات سے دُکھ نہ ہو

سو کیجئے بہت سوچ کر گفتگو

Tuesday, 6 April 2021

کچھ تو اسباب بنیں بات کرو بارش ہو

 کچھ تو اسباب بنیں، بات کرو، بارش ہو

آسماں سے ہو بھلے آنکھ سے ہو، بارش ہو

کل پہ رکھ لو یہ لڑائی کہ بہت گرمی ہے

اب مِری بات سنو ساتھ چلو، بارش ہو

اور کچھ دیر بھرم رہنے دو نم آنکھوں کا

اور کچھ دیر یونہی ہنستے رہو بارش ہو

Sunday, 21 March 2021

اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے

 اگرچہ وقت مناجات کے حصار میں ہے

ہمارا ہونا سوالات کے حصار میں ہے

اسے میں لمس کے منتر سے رام کر لوں گی

ابھی وہ جسم کرامات کے حصار میں ہے

ہماری آنکھ ہے رونے کی منتظر ایسے

کہ جیسے دشت بخارات کے حصار میں ہے

Monday, 16 November 2020

دنیا سمجھ رہی تھی سہارے مرے لئے

 دنیا سمجھ رہی تھی سہارے مِرے لیے

لیکن بنے تھے بوجھ کنارے مرے لیے

اس کو خبر نہ تھی میں حقیقت پسند ہوں

وہ کہہ رہا تھا لائے گا تارے مرے لیے

آنکھوں میں اس کی کتنی محبت دکھائی دی

ڈالی سے جس نے پھول اتارے مرے لیے