دل اگرچہ کہیں گیا بھی نہیں
میرے سینے میں یہ رہا بھی نہیں
جانے کیا کر رہا ہے وہ مِرے ساتھ
بے وفائی نہیں، وفا بھی نہیں
دل کھنڈر میں مکین تھی وحشت
لمحہ بھر کو سکوں رُکا بھی نہیں
زندگی تو مجھے کہاں لے آئی
ایک تنکے کا آسرا بھی نہیں
تجھے کیا علم اس محبت کا
تُو تو اس غم میں مبتلا بھی نہیں
کم نہیں کائنات سے کسی طور
اس اداسی کی انتہا بھی نہیں
میں اکیلی ہوں موج میں ناہید
ناخدا بھی نہیں خدا بھی نہیں
ناہید کیانی
No comments:
Post a Comment