Showing posts with label مظفرالنساء ناز. Show all posts
Showing posts with label مظفرالنساء ناز. Show all posts

Saturday, 5 September 2026

یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقش پا ہو گا

 یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا

میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا

وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے

اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا

رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے

آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا

Saturday, 2 August 2025

چراغ جل تو رہے ہیں مگر اندھیرا ہے

 چراغ جل تو رہے ہیں مگر اندھیرا ہے

نہ جانے شہر میں کیا اور ہونے والا ہے

اندھیرا گھر سہی لیکن بہت اجالا ہے

نہ جانے آج یہاں کون آنے والا ہے

یہ شخص دیکھنے میں اجنبی نہیں لگتا

نہ جانے کون سی بستی کا رہنے والا ہے

Sunday, 27 July 2025

نہ یہ سمجھنا اداسی ہی اپنے گھر ہو گی

 نہ یہ سمجھنا اداسی ہی اپنے گھر ہو گی

یقین کیجے کبھی تو نئی سحر ہو گی

بہت قدیم مرا زندگی سے رشتہ ہے

کسے خبر تھی مری چاہ در بدر ہو گی

اسی سبب نہ کبھی رک سکا سفر میرا

تری توجہ کبھی میری راہ بر ہو گی

Tuesday, 22 July 2025

بے فیض نہیں وقت کے بہتے ہوئے دھارے

 بے فیض نہیں وقت کے بہتے ہوئے دھارے

شاید ملیں کچھ لوگ ہمیں جان سے پیارے

اک بوند بھی اب چشمِ عنایت کی بہت ہے

پیاسے ہیں بہت گرمئ حالات کے مارے

جو فصلِ بہاراں کے لیے زینتِ دل تھے

آنکھوں میں پھرا کرتے ہیں اکثر وہ نظارے

Sunday, 20 July 2025

اب کہاں ملتے ہیں بے وجہ رلانے والے

 اب کہاں ملتے ہیں بے وجہ رُلانے والے

ہر نئی رُت میں نیا شہر بسانے والے

میں تو بیٹھی ہوں ہتھیلی پہ لیے دل اپنا

راہ دشوار سہی،۔ آئیں گے آنے والے

جانے کب ہو گی ملاقات دوبارہ اپنی

اک نظر دیکھ تو لے چھوڑ کے جانے والے