یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا
میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا
وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے
اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا
رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے
آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا
یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا
میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا
وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے
اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا
رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے
آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا
چراغ جل تو رہے ہیں مگر اندھیرا ہے
نہ جانے شہر میں کیا اور ہونے والا ہے
اندھیرا گھر سہی لیکن بہت اجالا ہے
نہ جانے آج یہاں کون آنے والا ہے
یہ شخص دیکھنے میں اجنبی نہیں لگتا
نہ جانے کون سی بستی کا رہنے والا ہے
نہ یہ سمجھنا اداسی ہی اپنے گھر ہو گی
یقین کیجے کبھی تو نئی سحر ہو گی
بہت قدیم مرا زندگی سے رشتہ ہے
کسے خبر تھی مری چاہ در بدر ہو گی
اسی سبب نہ کبھی رک سکا سفر میرا
تری توجہ کبھی میری راہ بر ہو گی
بے فیض نہیں وقت کے بہتے ہوئے دھارے
شاید ملیں کچھ لوگ ہمیں جان سے پیارے
اک بوند بھی اب چشمِ عنایت کی بہت ہے
پیاسے ہیں بہت گرمئ حالات کے مارے
جو فصلِ بہاراں کے لیے زینتِ دل تھے
آنکھوں میں پھرا کرتے ہیں اکثر وہ نظارے
اب کہاں ملتے ہیں بے وجہ رُلانے والے
ہر نئی رُت میں نیا شہر بسانے والے
میں تو بیٹھی ہوں ہتھیلی پہ لیے دل اپنا
راہ دشوار سہی،۔ آئیں گے آنے والے
جانے کب ہو گی ملاقات دوبارہ اپنی
اک نظر دیکھ تو لے چھوڑ کے جانے والے