Showing posts with label فرح دیبا. Show all posts
Showing posts with label فرح دیبا. Show all posts

Wednesday, 12 April 2023

لوگوں کا سینے میں دھڑکتا ہو گا

 لوگوں کا سینے میں دھڑکتا ہو گا

میرا دل تو ہتھیلیوں میں رہتا ہے

جہاں تمہارا عطر مدّھم ہونے لگا ہے

تم پھر سے وہی سفر طے کر کے آؤ

راستے پہ چلتے ہوئے Endless ہمیں

پرانی باتوں کی، نئی یاد دہانی کرنی ہے

Monday, 27 March 2023

پچھلی رات کا تاوان ادا کر کے

 پچھلی رات کا تاوان ادا کر کے

نیند مجھ میں، ابھی لوٹی ہی تھی

گلی میں جھانکتی کھڑکی سے

نئی موٹر کار کا زوں زوں کرتا ایکسیلیڑر

نو دولتیے کی داستاں سُنانے لگا

نیند حرام ہوئی

Saturday, 29 October 2022

کچھ پتوں کا ایک ہی موسم ہوتا ہے

 کچھ پتوں کا ایک ہی موسم ہوتا ہے

گر سورج کی تمازت انہیں رنگوں کے نور میں نہلا دے

کوئی منہ زور ہوا زندگی کے جھولے میں جھولا دے 

 کبھی آوارہ بارش کے مہکتے، گاتے، چمکتے

قطرے بوسہ دے کر سیراب  کر دیں

کوئی بھٹکی ہوئی چاندنی صحرا کی خاموشی لیے

Wednesday, 6 April 2022

کوئی کہاں جانتا ہے روح کی جنس کیا ہے

 کوئی کہاں جانتا ہے

روح کی جنس کیا ہے

وجود سے اس کا سمبندھ کہاں تک ہے

بٹوارہ گھر کا ہو یا جسم میں، ٹراما نہیں جاتا

پھر علاج تکلیف ٹالتا ہے، مرض ختم نہیں کرتا

تقسیم کا دیمک کئی نسلیں کھا لیتا ہے

Friday, 30 April 2021

میں محبت نہیں کر سکتی

 میں محبت نہیں کر سکتی

‏

اے محبت

میرے پیچھے نہ پڑ

مجھے آواز نہ دے

میرے دل میں

جگہ نہیں تیرے لیے

Friday, 23 April 2021

سہیلی اسے میری جو بھی شے پسند آ جاتی

 سہیلی


اُسے میری جو بھی شئے

پسند آ جاتی

بلا جھجک استعمال کر لیتی

مگر بتا ضرور دیتی

ایک دن اسے

Thursday, 8 April 2021

پہرہ والدین کی ضرورتیں پوری کرتے

 پہرہ

‏

والدین کی ضرورتیں پوری کرتے

اپاہج بھائی کے بچوں کی فیسیں دیتے

اس کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہے

اس کی اداس آنکھیں

دروازے پر لگی رہتی ہیں

ریت کا ایک گھر بنا کے بیٹھی سوچ رہی ہوں

 ریت کا گھر


ریت کا ایک گھر بنا کے

بیٹھی سوچ رہی ہوں

جانے کب ہوا کا جھونکا

ساری ریت اُڑائے

جانے کب بارش کا پانی

تمہیں یاد نہیں میری کتاب کے صحفوں کو

 تمہیں یاد نہیں

میری کتاب کے صفحوں کو

ذرا دھیرے پلٹو

تمہیں یاد نہیں

ان میں کہیں

میری آنکھیں دھری ہیں

Wednesday, 7 April 2021

کاش تم جان سکو وبا کے دنوں میں جھگڑا نہیں کرتے

 کاش تم جان سکو

وبا کے دنوں میں

جھگڑا نہیں کرتے

جگر، ثروت حسین، منیر نیازی، سارا شگفتہ

ن م راشد، گلزار کی شاعری پڑھتے ہیں

انوشکا شنکر کی ستار، تاری خان کا طبلہ