لوگوں کا سینے میں دھڑکتا ہو گا
میرا دل تو ہتھیلیوں میں رہتا ہے
جہاں تمہارا عطر مدّھم ہونے لگا ہے
تم پھر سے وہی سفر طے کر کے آؤ
راستے پہ چلتے ہوئے Endless ہمیں
پرانی باتوں کی، نئی یاد دہانی کرنی ہے
لوگوں کا سینے میں دھڑکتا ہو گا
میرا دل تو ہتھیلیوں میں رہتا ہے
جہاں تمہارا عطر مدّھم ہونے لگا ہے
تم پھر سے وہی سفر طے کر کے آؤ
راستے پہ چلتے ہوئے Endless ہمیں
پرانی باتوں کی، نئی یاد دہانی کرنی ہے
پچھلی رات کا تاوان ادا کر کے
نیند مجھ میں، ابھی لوٹی ہی تھی
گلی میں جھانکتی کھڑکی سے
نئی موٹر کار کا زوں زوں کرتا ایکسیلیڑر
نو دولتیے کی داستاں سُنانے لگا
نیند حرام ہوئی
کچھ پتوں کا ایک ہی موسم ہوتا ہے
گر سورج کی تمازت انہیں رنگوں کے نور میں نہلا دے
کوئی منہ زور ہوا زندگی کے جھولے میں جھولا دے
کبھی آوارہ بارش کے مہکتے، گاتے، چمکتے
قطرے بوسہ دے کر سیراب کر دیں
کوئی بھٹکی ہوئی چاندنی صحرا کی خاموشی لیے
کوئی کہاں جانتا ہے
روح کی جنس کیا ہے
وجود سے اس کا سمبندھ کہاں تک ہے
بٹوارہ گھر کا ہو یا جسم میں، ٹراما نہیں جاتا
پھر علاج تکلیف ٹالتا ہے، مرض ختم نہیں کرتا
تقسیم کا دیمک کئی نسلیں کھا لیتا ہے
میں محبت نہیں کر سکتی
اے محبت
میرے پیچھے نہ پڑ
مجھے آواز نہ دے
میرے دل میں
جگہ نہیں تیرے لیے
سہیلی
اُسے میری جو بھی شئے
پسند آ جاتی
بلا جھجک استعمال کر لیتی
مگر بتا ضرور دیتی
ایک دن اسے
پہرہ
والدین کی ضرورتیں پوری کرتے
اپاہج بھائی کے بچوں کی فیسیں دیتے
اس کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہے
اس کی اداس آنکھیں
دروازے پر لگی رہتی ہیں
ریت کا گھر
ریت کا ایک گھر بنا کے
بیٹھی سوچ رہی ہوں
جانے کب ہوا کا جھونکا
ساری ریت اُڑائے
جانے کب بارش کا پانی
تمہیں یاد نہیں
میری کتاب کے صفحوں کو
ذرا دھیرے پلٹو
تمہیں یاد نہیں
ان میں کہیں
میری آنکھیں دھری ہیں
کاش تم جان سکو
وبا کے دنوں میں
جھگڑا نہیں کرتے
جگر، ثروت حسین، منیر نیازی، سارا شگفتہ
ن م راشد، گلزار کی شاعری پڑھتے ہیں
انوشکا شنکر کی ستار، تاری خان کا طبلہ