رقص کرتے ہیں اب مِرے سائے
کیوں مجھے روشنی میں لے آئے
اس کی سانسوں سے جو ہوا مہکی
کوئی اس میں جئے کہ مر جائے
جال میں ایک مسکراہٹ کے
ہم نے دھوکے بھی کم نہیں کھائے
رقص کرتے ہیں اب مِرے سائے
کیوں مجھے روشنی میں لے آئے
اس کی سانسوں سے جو ہوا مہکی
کوئی اس میں جئے کہ مر جائے
جال میں ایک مسکراہٹ کے
ہم نے دھوکے بھی کم نہیں کھائے
شعور پیاسا سمندر ہے، کیا کِیا جائے
یہ کائنات کا منظر ہے، کیا کیا جائے
نفس نفس میں مقید ہوا کا رخ بن کر
حیات، میرا مقدر ہے، کیا کیا جائے
نگاہ دیکھ نہ پائی ہے، آج تک جس کو
وہ میری روح کے اندر ہے، کیا کیا جائے
الفاظ بے صدا کا امکان آئینے میں
دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئینے میں
کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئینے میں
ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئینے میں
گھر کی دیوار پہ پھیلا ہوا جالا دیکھوں
لوٹ کر آؤں تو دروازے پہ تالا دیکھوں
کیا تجسس ہے کہ صفحات میں ڈھونڈوں خود کو
پھر بھی ہر سطر میں تیرا ہی حوالا دیکھوں
ایک تاریخ کے اوراق الٹتا جاؤں
ایک تہذیب کا عنصر تہ و بالا دیکھوں
عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے
جب شعورِ انسانی رابطے کا پیاسا تھا
حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے
فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
اعتبارِ ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے