Showing posts with label غالب عرفان. Show all posts
Showing posts with label غالب عرفان. Show all posts

Saturday, 17 September 2022

رقص کرتے ہیں اب مرے سائے

 رقص کرتے ہیں اب مِرے سائے

کیوں مجھے روشنی میں لے آئے

اس کی سانسوں سے جو ہوا مہکی

کوئی اس میں جئے کہ مر جائے

جال میں ایک مسکراہٹ کے

ہم نے دھوکے بھی کم نہیں کھائے

Saturday, 10 September 2022

شعور پیاسا سمندر ہے کیا کیا جائے

 شعور پیاسا سمندر ہے، کیا کِیا جائے

یہ کائنات کا منظر ہے، کیا کیا جائے

نفس نفس میں مقید ہوا کا رخ بن کر

حیات، میرا مقدر ہے، کیا کیا جائے

نگاہ دیکھ نہ پائی ہے، آج تک جس کو

وہ میری روح کے اندر ہے، کیا کیا جائے

Wednesday, 7 September 2022

الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں

الفاظ بے صدا کا امکان آئینے میں

دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئینے میں

کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں

کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئینے میں

ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں

ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئینے میں

Tuesday, 6 September 2022

گھر کی دیوار پہ پھیلا ہوا جالا دیکھوں

 گھر کی دیوار پہ پھیلا ہوا جالا دیکھوں

لوٹ کر آؤں تو دروازے پہ تالا دیکھوں

کیا تجسس ہے کہ صفحات میں ڈھونڈوں خود کو

پھر بھی ہر سطر میں تیرا ہی حوالا دیکھوں

ایک تاریخ کے اوراق الٹتا جاؤں

ایک تہذیب کا عنصر تہ و بالا دیکھوں

Saturday, 2 April 2022

عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے

 عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے

آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

جب شعورِ انسانی رابطے کا پیاسا تھا

حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر

اعتبارِ ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے