فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا
ایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا، اچھا لگا
جان من، جان وفا خط میں لکھا اچھا لگا
دور سے اس نے مجھے اپنا کہا، اچھا لگا
میں نے غم کی دھن بھی چھیڑی اور خوشی کا راگ بھی
تم بتاؤ گیت میرا کون سا اچھا لگا؟
فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا
ایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا، اچھا لگا
جان من، جان وفا خط میں لکھا اچھا لگا
دور سے اس نے مجھے اپنا کہا، اچھا لگا
میں نے غم کی دھن بھی چھیڑی اور خوشی کا راگ بھی
تم بتاؤ گیت میرا کون سا اچھا لگا؟
چین آتا نہیں ان سے ملاقات کیۓ بِن
بولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کیۓ بن
کمبخت ہواؤں نے یہ کیا کہہ دیا ان سے
کیوں ابر اڑے جاتے ہیں برسات کیۓ بن
مے آ گئی گھر میں یہ خبر شیخ نہ سن لیں
لوٹ آئیں گے مسجد سے مناجات کیۓ بن
سکندر کے سفر کی بات نکلے
کفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلے
وہ کل کی فیس بک وہ کیف و شعری
وہ دیکھو چاند سورج ساتھ نکلے
میں نکلوں چاندی اور سونا پہن کر
مگر، مٹی مِری اوقات نکلے
پیام غم کا وہی غمگسار دیتے ہیں
تسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیں
کہاں کا ہوش انہیں یہ تِری ہے رسوائی
صدائیں تجھ کو جو دیوانہ وار دیتے ہیں
وہ آتے آتے یہ کہتے ہیں؛ جلد جانا ہے
وہ جاتے جاتے نیا انتظار دیتے ہیں
حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے
پڑوسن میری اتراتی بہت ہے
وہ گھر میں چین سے رہتی ہے کم کم
مگر چھت پر نظر آتی بہت ہے
نہیں سنتی کسی کی اپنے آگے
سمجھتی کم ہے سمجھاتی بہت ہے
خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی
کہ دردِ دل نہیں جاتا کسی دوا سے بھی
جلا رکھے ہیں مِری زندگی میں سانسوں نے
چراغ ایسے کہ بجھتے نہیں ہوا سے بھی
مِرے لیے مِرا اللہ کون سا کم ہے
مجھے تو کام نہیں ہے کسی خدا سے بھی