Showing posts with label پروین کیف. Show all posts
Showing posts with label پروین کیف. Show all posts

Thursday, 30 May 2024

فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا

 فیصلے کی اس گھڑی کا التوا اچھا لگا

ایک رشتہ ٹوٹنے سے بچ گیا، اچھا لگا

جان من، جان وفا خط میں لکھا اچھا لگا

دور سے اس نے مجھے اپنا کہا، اچھا لگا

میں نے غم کی دھن بھی چھیڑی اور خوشی کا راگ بھی

تم بتاؤ گیت میرا کون سا اچھا لگا؟

Friday, 25 February 2022

چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بن

 چین آتا نہیں ان سے ملاقات کیۓ بِن

بولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کیۓ بن

کمبخت ہواؤں نے یہ کیا کہہ دیا ان سے

کیوں ابر اڑے جاتے ہیں برسات کیۓ بن

مے آ گئی گھر میں یہ خبر شیخ نہ سن لیں

لوٹ آئیں گے مسجد سے مناجات کیۓ بن

Saturday, 19 February 2022

سکندر کے سفر کی بات نکلے

 سکندر کے سفر کی بات نکلے

کفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلے

وہ کل کی فیس بک وہ کیف و شعری

وہ دیکھو چاند سورج ساتھ نکلے

میں نکلوں چاندی اور سونا پہن کر

مگر، مٹی مِری اوقات نکلے

Saturday, 22 January 2022

پیام غم کا وہی غمگسار دیتے ہیں

 پیام غم کا وہی غمگسار دیتے ہیں

تسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیں

کہاں کا ہوش انہیں یہ تِری ہے رسوائی

صدائیں تجھ کو جو دیوانہ وار دیتے ہیں

وہ آتے آتے یہ کہتے ہیں؛ جلد جانا ہے

وہ جاتے جاتے نیا انتظار دیتے ہیں

Friday, 21 January 2022

حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے

 حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے

پڑوسن میری اتراتی بہت ہے

وہ گھر میں چین سے رہتی ہے کم کم

مگر چھت پر نظر آتی بہت ہے

نہیں سنتی کسی کی اپنے آگے

سمجھتی کم ہے سمجھاتی بہت ہے

Thursday, 9 December 2021

خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

 خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

کہ دردِ دل نہیں جاتا کسی دوا سے بھی

جلا رکھے ہیں مِری زندگی میں سانسوں نے

چراغ ایسے کہ بجھتے نہیں ہوا سے بھی

مِرے لیے مِرا اللہ کون سا کم ہے

مجھے تو کام نہیں ہے کسی خدا سے بھی