Friday, 21 January 2022

حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے

 حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے

پڑوسن میری اتراتی بہت ہے

وہ گھر میں چین سے رہتی ہے کم کم

مگر چھت پر نظر آتی بہت ہے

نہیں سنتی کسی کی اپنے آگے

سمجھتی کم ہے سمجھاتی بہت ہے

کرے ہے گفتگو سرگوشیوں میں

مگر زیور تو کھنکاتی بہت ہے

بڑی سنجیدہ بنتی ہے وہ لیکن

میاں سے چھپ کے مستاتی بہت ہے

مِرے اللہ اس کی گود بھر دے

وہ تنہا لوریاں گاتی بہت ہے


پروین کیف

No comments:

Post a Comment