حیا تو اس سے شرماتی بہت ہے
پڑوسن میری اتراتی بہت ہے
وہ گھر میں چین سے رہتی ہے کم کم
مگر چھت پر نظر آتی بہت ہے
نہیں سنتی کسی کی اپنے آگے
سمجھتی کم ہے سمجھاتی بہت ہے
کرے ہے گفتگو سرگوشیوں میں
مگر زیور تو کھنکاتی بہت ہے
بڑی سنجیدہ بنتی ہے وہ لیکن
میاں سے چھپ کے مستاتی بہت ہے
مِرے اللہ اس کی گود بھر دے
وہ تنہا لوریاں گاتی بہت ہے
پروین کیف
No comments:
Post a Comment