اب تک مجھے نہ کوئی مِرا رازداں مِلا
جو بھی مِلا اسیرِ زمان و مکاں ملا
کیا جانے کیا سمجھ کے ہمیشہ کیا گُریز
سو بار بجلیوں کو مِرا آشیاں ملا
اُکتا گیا ہوں جادۂ نو کی تلاش میں
ہر راہ میں کوئی نہ کوئی کارواں ملا
اب تک مجھے نہ کوئی مِرا رازداں مِلا
جو بھی مِلا اسیرِ زمان و مکاں ملا
کیا جانے کیا سمجھ کے ہمیشہ کیا گُریز
سو بار بجلیوں کو مِرا آشیاں ملا
اُکتا گیا ہوں جادۂ نو کی تلاش میں
ہر راہ میں کوئی نہ کوئی کارواں ملا
(مکمل) پاکستان پاکستان، جیوے پاکستان
مہکی مہکی روشن روشن پیاری پیاری نیاری
رنگ برنگے پھولوں سے اک سجی پھلواری
پاکستان پاکستان، جیوے پاکستان
من پنچھی جب پنکھ ہلائے، کیا کیا سُر بکھرائے
سننے والے ان میں ایک ہی دھن لہرائے
ملی نغمہ
اتنے بڑے جیون ساگر میں
تُو نے پاکستان دیا
ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ
اتنے بڑے جیون ساگر میں۔۔۔
ساحل اترا بیچ بھنور میں
اک نیا امکان دیا
بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا
اپنا پیشہ ہی جو ٹھہرا ہے پریشاں ہونا
اتنی رسوائیاں سہہ لی ہیں تو اک یہ بھی سہی
ہم کو منظور ہے منت کش درباں ہونا
تجھ میں کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ظالم
ہاں مگر تیرے لیے میرا پریشاں ہونا
تا ابد ایک ہی چرچا ہو گا
کوئی ہم سا کوئی تم سا ہو گا
اسی تاریک زمیں کا منظر
چاند پر چاندنی جیسا ہو گا
سورج آیا ہے مِری سمت مگر
دوسری سمت اندھیرا ہو گا
دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے
جب تِرا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے
تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکن
لمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے
ہائے نو عمر ادیبوں کا یہ انداز بیاں
اپنے مکتوب تِرے نام کئی یاد آئے