Showing posts with label جمیل الدین عالی. Show all posts
Showing posts with label جمیل الدین عالی. Show all posts

Tuesday, 12 March 2024

اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا

 اب تک مجھے نہ کوئی مِرا رازداں مِلا 

جو بھی مِلا اسیرِ زمان و مکاں ملا 

کیا جانے کیا سمجھ کے ہمیشہ کیا گُریز 

سو بار بجلیوں کو مِرا آشیاں ملا 

اُکتا گیا ہوں جادۂ نو کی تلاش میں 

ہر راہ میں کوئی نہ کوئی کارواں ملا 

Saturday, 13 August 2022

پاکستان پاکستان جیوے پاکستان

 (مکمل) پاکستان پاکستان، جیوے پاکستان


مہکی مہکی روشن روشن پیاری پیاری نیاری

رنگ برنگے پھولوں سے اک سجی پھلواری

پاکستان پاکستان، جیوے پاکستان


من پنچھی جب پنکھ ہلائے، کیا کیا سُر بکھرائے

سننے والے ان میں ایک ہی دھن لہرائے

Tuesday, 9 August 2022

اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا

 ملی نغمہ


اتنے بڑے جیون ساگر میں 

تُو نے پاکستان دیا

ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ

اتنے بڑے جیون ساگر میں۔۔۔


ساحل اترا بیچ بھنور میں

اک نیا امکان دیا

Tuesday, 26 April 2022

بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا

 بے سبب تجھ سے ہر اک بات پہ نالاں ہونا

اپنا پیشہ ہی جو ٹھہرا ہے پریشاں ہونا

اتنی رسوائیاں سہہ لی ہیں تو اک یہ بھی سہی

ہم کو منظور ہے منت کش درباں ہونا

تجھ میں کیا بات ہے جو مجھ میں نہیں ہے ظالم

ہاں مگر تیرے لیے میرا پریشاں ہونا

Friday, 1 April 2022

تا ابد ایک ہی چرچا ہو گا

 تا ابد ایک ہی چرچا ہو گا

کوئی ہم سا کوئی تم سا ہو گا

اسی تاریک زمیں کا منظر

چاند پر چاندنی جیسا ہو گا

سورج آیا ہے مِری سمت مگر

دوسری سمت اندھیرا ہو گا

Thursday, 10 March 2022

دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے

دل آشفتہ پہ الزام کئی یاد آئے

جب تِرا ذکر چھڑا نام کئی یاد آئے

تجھ سے چھٹ کر بھی گزرنی تھی سو گزری لیکن

لمحہ لمحہ سحر و شام کئی یاد آئے

ہائے نو عمر ادیبوں کا یہ انداز بیاں

اپنے مکتوب تِرے نام کئی یاد آئے

Saturday, 31 December 2016

عالی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا

عالی جس کا فنِ سخن میں اک انداز نرالا تھا
نقدِ سخن میں ذکر یہ آیا، دوہے پڑھنے والا تھا
چند نئے شعروں کے شعلے کیسی لے میں بھڑکتے تھے 
تم آ کر سنتے تو سہی کل ساری رات اجالا تھا
جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو
برسوں بعد غزل کی رو میں ایک مضمون نکالا تھا 

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو میرا یہ روپ بنا گئے

تمہیں مجھ میں کیا نظر آ گیا جو میرا یہ روپ بنا گئے
وہ تمام لوگ جو عشق تھے وہ میرے وجود میں آ گئے
نہ تیرے سوا کوئی لکھ سکے نہ میرے سوا کوئی پڑھ سکے
یہ حروف بے ورق و سبق،۔ ہمیں کیا زباں سکھا گئے
نہ کر آج ہم سے یہ گفتگو مجھے کیوں ہوئی تیری جستجو 
ارے ہم بھی ایک خیال تھے سو تیرے بھی ذہن میں آ گئے 

Wednesday, 28 December 2016

خدا کہوں گا تمہیں ناخدا کہوں گا تمہیں

خدا کہوں گا تمہیں، ناخدا کہوں گا تمہیں
پکارنا ہی پڑے گا تو کیا کہوں گا تمہیں
میری پسند، میرے نام پر نہ حرف آئے
بہت حسیں، بہت با وفا کہوں گا تمہیں
ہزار دوست ہیں، وجہِ ملال پوچھیں گے
سبب تو صرف تمہی ہو، میں کیا کہوں گا تمہیں

ایک عجیب راگ ہے ایک عجیب گفتگو

ایک عجیب راگ ہے، ایک عجیب گفتگو
سات سروں کی آگ ہے، آٹھویں سر کی جستجو
بجھتے ہوئے مِرے خیال، جن میں ہزارہا سوال
پھر سے بھڑک کے روح میں، پھیل گئے ہیں چار سو
تیرہ شبی پہ صبر تھا، سو وہ کسی کو بھا گیا
آپ ہی آپ چھا گیا، ایک سحابِ رنگ و بو

برہمی میں بھی وہ ابہام روا رکھتے تھے

برہمی میں بھی وہ ابہام روا رکھتے تھے
کئی الفاظ تو مفہومِ وفا رکھتے تھے
اگلے وقتوں کے حسینوں سے گواہی لے لو 
ہم بھی ایک اپنی جوانی کی ہوا رکھتے تھے 
ہم جو آ پہنچے تو احساں ہے تیرا ہی، ورنہ 
سبھی رستے تِری منزل سے جدا رکھتے تھے

Friday, 21 October 2016

سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی اللہ رکھے

ملی  نغمہ

سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی اللہ رکھے
قدم قدم آباد تجھے، قدم قدم آباد تجھے
سوہنی دھرتی سوہنی دھرتی اللہ رکھے

تیرا ہر اک ذرہ ہم کو اپنی جان سے پیارا
تیرے دم سے شان ہماری تجھ سے نام ہمارا
جب تک ہے یہ دنیا باقی ہم دیکھیں آزاد تجھے

Sunday, 16 October 2016

اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں

رزمیہ گیت

اے وطن کے سجیلے جوانو
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں
سرفروشی ہے ایماں تمہارا
جرأتوں کے پرستار ہو تم
جو حفاظت کرے سرحدوں کی
وہ فلک بوس دیوار ہو تم
اے شجاعت کے زندہ نشانو
میرے نغمے تمہارے لیے ہیں

اللہ اکبر اللہ اکبر ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر
ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں
ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں
دین ہمارا دینِ مکمل، استعمار ہے باطلِ ارذل
خیر ہے جد و جہدِ مسلسل
عند اللہ، عنداللہ، عنداللہ، عنداللہ
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر

وہ شفیعنا وہ حبیبنا کہ جو ہیں نہایت جستجو

نعت رسول کریمﷺ

وہ شفیعنٰا وہ حبیبنٰا کہ جو ہیں نہایت جستجو
مجھے اپنے پاس بلا لیا مجھے دی اجازت گفتگو
بَلَغَ العُلےٰ بکمالہٖ، یہ پڑھا انہی کے حضور میں
کَشَفَ الدُّجےٰ بِجَمَالِہِ یہ کہا ان کے رو برو
حَسُنَت جَمِیعُ خِصَالِہٖ یہی اک پیام قدم قدم
صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہٖ یہی اک کلام ہے کو بہ کو

Tuesday, 24 November 2015

عالی جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے

عالی جی اب آپ چلو تم اپنے بوجھ اٹھائے
ساتھ بھی دے تو آخر پیارے کوئی کہاں تک جائے
جس سورج کی آس لگی ہے شاید وہ بھی آئے
تم یہ کہو خود تم نے اب تک کتنے دیے جلائے
اپنا کام ہے صرف محبت باقی اس کا کام
جب چاہے وہ روٹھے ہم سے جب چاہے من جائے

کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے

کب تم بھٹکے کیوں تم بھٹکے کس کس کو سمجھاؤ گے
اتنی دور تو آ پہنچے ہو اور کہاں تک جاؤ گے
اس چالیس برس میں تم نے کتنے دوست بنائے ہیں
اب جو عمر بچی ہے اس میں کتنے دوست بناؤ گے
بچپن کے سب سنگی ساتھی آخر کیونکر چھوٹ گئے
کوئی یار نیا پوچھے تو اس کو کیا بتلاؤ گے

اب جو یہ میرے بغیر انجمن آرائی ہے

اب جو یہ میرے بغیر انجمن آرائی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ تم کو میری یاد آئی ہے
یہ جو عالیؔ ہے یہ شاعر نہیں سودائی ہے
یہ تو سچ ہے مگر آگے تِری رسوائی ہے
میرے شکووں پہ نہ جا میں تو وہی ہوں جس نے 
بارہا ترکِ محبت کی قسم کھا ئی ہے

اب عالی جی اہل سخن کی صحبت سے گھبراتے ہیں

اب عالیؔ جی اہلِ سخن کی صحبت سے گھبراتے ہیں
جب کہیں بیٹھنا ہی پڑ جائے گیت پرانے گاتے ہیں
گیت پرانے سوہنے لیکن کب تک گائے جاؤ گے
ایک سے بول اور ایک سی لے سے کن رس بھی تھک جاتے ہیں
یہ سب شکوے سر آنکھوں پر، لیکن یارو! سوچو تو
ایسے خوش گویانِ سخن کیوں چپ ہو کر رہ جاتے ہیں

Monday, 5 October 2015

گلہ نہیں جو وہ بیگانہ وار گزرے ہیں

گِلہ نہیں جو وہ بے گانہ وار گزرے ہیں
ہم ایسے اہلِ سخن بے شمار گزرے ہیں
ترس نہ کھاؤ مِری شِدّتِ تباہی پر
کہ عمر بھر یہی لیل و نہار گزرے ہیں
تمام عمر رہا خوفِ ناپزیرائی
جدھر سے گزرے ہیں دیوانہ وار گزرے ہیں