اے خدا تیری تخلیق کردہ یہ حسیں دنیا
جو محبتوں کے خمار سے مزین ہے
کتنی خوبصورت ہے
اس حسیں دنیا میں بچے، پھول، خوشبو
اور چاند تارے ہیں
دلکش اور دلنشیں نظارے ہیں
اے خدا تیری تخلیق کردہ یہ حسیں دنیا
جو محبتوں کے خمار سے مزین ہے
کتنی خوبصورت ہے
اس حسیں دنیا میں بچے، پھول، خوشبو
اور چاند تارے ہیں
دلکش اور دلنشیں نظارے ہیں
بہت سے لوگ کہتے ہیں
خدا رہتا ہے آسمانوں کی بلندی پر
بہت سے لوگ کہتے ہیں
خدا رہتا ہے مسجد و محراب و گنبد میں
کبھی تم نے بھی خود سوچا
خدا کا جائے مسکن ہے کہاں؟
اجنبی ہو گئے تم میرے لیے
اور میں تمہارے لیے
چھوٹی سی بس جو
ملاقات تھی
نا ہوتی تو اچھا ہی تھا
جو بے چین کر گئی
جہاد النّکاح کے نام
یہ حوّا کی بیٹی کی توقیر ہے؟
ہے تار تار عصمت، وہ دلگیر ہے
کل وہ بکتی تھی بِن مول بازار میں
زندہ گاڑی جاتی تھی وہ قبر میں
آج شہرِ قاضی کا فرمان ہے
دستک
کبھی کبھی محسوس سا کچھ یوں ہوتا ہے
ایک دستک ہلکی ہلکی سی
پھر آہٹ بہت آہستہ سی
دل کے در پر ہوتی ہے
ہو شام، سویرا
ملاقات
کل کی ملاقات میں تم نے مجھ سے
تازہ شاعری مانگی
میں نے سوچا
تم تو خود سراپا حسن ہو، ناز ہو، انداز ہو
تم کو لفظوں کی ضرورت کیا ہے؟
ای میل
اے دوست
میری یہ ای میل
ہے تمہارے نام
امید ہے تم اچھے ہو گے
ہمیشہ کی طرح
خود کو سمجھا لو
سنو جاناں
مجھے تم سے بس
ایک بات کہنی ہے
اور وہ بات تم کو یاد رکھنی ہے
کہ تم خوابوں میں میرے
اس طرح نہیں آیا کرو
میں کوئی بھکشو تو نہیں
میں کوئی بھکشو تو نہیں
جو تمہارے کارن
جنگل جنگل بھٹکنے نکل جاؤں گا
میں ایک سنیاسی بھی نہیں
جو روگ میں تمہارے
کسی ویرانے میں یوگ لے کر