جہاد النّکاح کے نام
یہ حوّا کی بیٹی کی توقیر ہے؟
ہے تار تار عصمت، وہ دلگیر ہے
کل وہ بکتی تھی بِن مول بازار میں
زندہ گاڑی جاتی تھی وہ قبر میں
آج شہرِ قاضی کا فرمان ہے
جہادی کی آغوش تیرا نِروان ہے
تُو پیدا ہوئی ہے انہی کے لیے
تُو کھلونا بنی ہے انہی کے لیے
جا، اور اس کے دل کو بہلا او بے خبر
کیا جہادی کا حق ہے تجھے کیا خبر
انہوں نے تو کی ہے، جنت کی قیمت ادا
یہی تو رکھیں گے تجھے اس جگہ
حرام و حلال سوچنا چھوڑ دے
تیری عزت کی قیمت، جہادی کا حق
تیری عصمت کی قیمت، جہادی کا حق
جہادی کا حق ہے، جہادی کا حق
زائرہ عابدی
No comments:
Post a Comment