Showing posts with label جگن ناتھ آزاد. Show all posts
Showing posts with label جگن ناتھ آزاد. Show all posts

Friday, 5 May 2023

سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


سلام اس ذاتِ اقدسؐ پر، سلام اس فخرِ دوراں پر​

ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر​

سلام اس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا​

رہا جو بے کسوں کا آسرا، مشفق غریبوں کا​

سلام اس پر جو آیا رحمۃ اللعالمیںﷺ بن کر​

پیامِ دوست لے کر، صادق الوعد و امیں بن کر

Saturday, 3 September 2022

پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہم

 پھر لوٹ کر گئے نہ کبھی دشت و در سے ہم

نکلے بس ایک بار کچھ اس طرح گھر سے ہم

کچھ دور تک چلے ہی گئے بے خبر سے ہم

اے بے خودیٔ شوق یہ گزرے کدھر سے ہم

آزاد بے نیاز تھے اپنی خبر سے ہم

پلٹے کچھ اس طرح سے دکن کے سفر سے ہم

Friday, 19 March 2021

مجھے اک محسن انسانیت کا ذکر کرنا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مجھے اک محسن انسانیت کا ذکر کرنا ہے

مجھے رنگ عقیدت فکر کے سانچے میں بھرنا ہے

بیاں کرنا ہے اوجِ ابنِ آدم بن کے کون آیا

بیاں کرنا ہے فخر ہر دو عالم بن کے کون آیا

جسے حق نے کیا تسلیم ختم المرسلیںﷺ آیا

جسے دنیا نے مانا رحمت للعالمیںﷺ آیا

Monday, 19 October 2020

خواب کی طرح سے یاد ہے

 خواب کی طرح سے یاد ہے


خواب کی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے

جس طرح دامن مشرق میں سحر ہوتی ہے

ذرے ذرے کو تجلی کی خبر ہوتی ہے

اور جب نور کا سیلاب گزر جاتا ہے

رات بھر ایک اندھیرے میں بسر ہوتی ہے

کچھ اسی طرح سے ہے یاد کہ تم آئے تھے

Saturday, 31 December 2016

میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کر

میں دل میں ان کی یاد کے طوفاں کو پال کر
لایا ہوں ایک موجِ تغزل نکال کر
پیمانۂ طرب میں کہیں بال آ گیا
میں گرچہ پی رہا تھا بہت ہی سنبھال کر
محفل جمی ہوئی ہے تِری راہ میں کوئی
اے گردشِ زمانہ! بس اتنا خیال کر

ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوں

ممکن نہیں کہ بزم طرب پھر سجا سکوں
اب یہ بھی ہے بہت کہ تمہیں یاد آ سکوں
یہ کیا طلسم ہے کہ جلوہ گاہ سے
نزدیک آ سکوں نہ کہیں دور جا سکوں
ذوقِ نگاہ اور بہاروں کے درمیاں
پردے گرے ہیں وہ کہ نہ جن کو اٹھا سکوں

Tuesday, 20 September 2016

ترتیب نشیمن کیا ہو گی، آئین گلستاں کیا ہو گا

ترتیبِ نشیمن کیا ہو گی، آئینِ گلستاں کیا ہو گا
آغاز بہاراں! کچھ تو بتا! انجامِ بہاراں کیا ہو گا
اندازۂ طوفاں ہوتا ہے طوفاں کے قریب آ جانے سے
ساحل پہ بسیرا کرنے سے اندازۂ طوفاں کیا ہو گا
یہ گلشنِ نو ہے گلشنِ نو اے فکرِ کہن کے دیوانو
بیمار تفکر آخر اس گلشن میں غزلخواں کیا ہو گا

پھر بھی کم تھا گرچہ تیری ذات سے پایا بہت

پھر بھی کم تھا گرچہ تیری ذات سے پایا بہت
تُو ہُوا رخصت تو دل کو یہ خیال آیا بہت
سِیم و زر کیا شے ہے یہ لعل و گہر کیا چیز ہیں
آنکھ بِینا ہو تو علم و فن کا سرمایا بہت
کیا خبر کیا بات اس کے کفر میں پوشیدہ تھی
ایک کافر کیوں حرم والوں کو یاد آیا بہت

Tuesday, 16 August 2016

غمگساروں نے تجھے یاد کیا ہے آزاد

غمگساروں نے تجھے یاد کِیا ہے آزاد
تیرے پیاروں نے تجھے یاد کیا ہے آزاد
جن اشاروں پہ رہی رقص میں لیلائے حیات
ان اشاروں نے تجھے یاد کیا ہے آزاد
تجھ کو اک بار گنوا کر جو پرہشان رہیں
ان بہاروں نے تجھے یاد کیا ہے آزاد

داغ وہ تو نے دیا ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں

داغ وہ تُو نے دیا ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں
گر ہو منظور دکھانا تو دکھا بھی نہ سکوں
کیا غضب ہے کہ تجھے پاس بلا بھی نہ سکوں
اور تُو مجھ کو پکارے تو میں آ بھی نہ سکوں
خود کرائے ہیں جو انوار پہ میں نے پردے
وائے تقدیر کہ اب ان کو اٹھا بھی نہ سکوں

جب جوش جنوں ہو گرم سفر وہ بند و سلاسل کیا جانے

جب جوشِ جنوں ہو گرمِ سفر وہ بند و سلاسل کیا جانے
طوفان جب اپنی موج میں ہو پابندیٔ ساحل کیا جانے
جب برق میں ضو ہے شمع میں لو پارے میں تڑپ کوندے میں لپک
پابندِ طلسمِ دَیر و حرم! وہ درد تِرا دل کیا جانے
وہ عزم ہے جو لے آتا ہے قدموں تک کھینچ کے منزل کو
اس راز کو رہبر کیا سمجھے، اس بھید کو منزل کیا جانے

یوں آمد فصل بہاری کو گلزار میں رقصاں دیکھیں گے

یوں آمدِ فصلِ بہاری کو گلزار میں رقصاں دیکھیں گے
اے شاخِ فرومایہ! تجھ کو ہر سمت گل افشاں دیکھیں گے
ظلمت کی ہر اک موجِ کُہن سورج کی کرن بن جائے گی
اے شامِ الم! اک روز تجھے ہم صبحِ درخشاں دیکھیں گے
اے راز محبت! بول ذرا، یہ عقدۂ نازک کھول ذرا
انسان سے آخر کب تک ہم انساں کو گریزاں دیکھیں گے

Thursday, 11 August 2016

نہ پہنچیں گی نگاہیں ماورائے آسماں کب تک

نہ پہنچیں گی نگاہیں ماورائے آسماں کب تک
رہے گا راہ میں حائل غبارِ کہکشاں کب تک
وطن کہتے تھے جس کو چھٹ گیا، اب دیکھنا یہ ہے
کہ رہتے ہیں دیارِ غیر میں ہم میہماں کب تک
قفس کی دلکشی میں تو کمی کوئی نہیں، لیکن
نہ آئے گی قفس میں رہ کے یادِ آشیاں کب تک

نئے ماحول میں یوں اہل فن کی آزمائش ہے

نئے ماحول میں یوں اہلِ فن کی آزمائش ہے
کہ جیسے بستیوں پر کوہکن کی آزمائش ہے
ہمارے عزم کو دار و رسن کیا آزمائیں گے
ہمارا عزم خود دار و رسن کی آزمائش ہے
دلوں کو درد سے آباد کر دینے کا وقت آیا
اب اے اہلِ سخن! ذوقِ سخن کی آزمائش ہے

ہم صفیروں کا ساتھ چھوٹ گیا

یوں گلستاں میں آئی بادِ نسیم 
ہم صفیروں کا ساتھ چھوٹ گیا
میں نے پوچھا جو زندگی کیا ہے
ہاتھ سے گر کر جام ٹوٹ گیا
تِرے آنے سے اے نسیمِ بہار
کیسے کیسوں کا ساتھ چھوٹ گیا

کیا گلہ غیروں کا خود ہی سانحہ لے کر چلے

کیا گلہ غیروں کا خود ہی سانحہ لے کر چلے
پتھروں کے شہر میں ہم آئینہ لے کر چلے
ہم ہیں اور ان میں ازل کے روز جو حائل رہا
ہم وہی روز ابد تک فاصلہ لے کر چلے
باوجودِ کسمپرسی دل کہیں تنہا نہ تھا
ہر جگہ یادوں کا ہم اک قافلہ لے کر چلے

Saturday, 25 June 2016

دل کی بستی کو نہ ویران بنائے رکھنا

دل کی بستی کو نہ ویران بنائے رکھنا
کچھ نہ ہو اور تو یادوں سے سجائے رکھنا
رشتۂ درد سے پائندہ نہیں رشتہ کوئی
مِری اس بات کو سینے سے لگائے رکھنا
بجھ گئے اب کے تو شاید نہ جلیں پھر یہ کبھی
ان چراغوں کو ہواؤں سے بچائے رکھنا

نہ پوچھو جب بہار آئی تو دیوانوں پہ کیا گزری

نہ پوچھو جب بہار آئی تو دیوانوں پہ کیا گزری
ذرا دیکھو تو اس موسم میں فرزانوں پہ کیا گزری
بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا
بتا اے پیر مے خانہ! یہ مے خانوں پہ کیا گزری
فضا میں ہر طرف کیوں دھجیاں آوارہ ہیں ان کی
جنونِ سرفروشی! تیرے افسانوں پہ کیا گزری

کیا جانے کس آنے والے دور کی یہ تیاری ہے

کیا جانے کس آنے والے دور کی یہ تیاری ہے
حال کا لمحہ لمحہ ماضی کی صدیوں پر بھاری ہے
فصلِ بہاراں کے چہرے پر جس کے سبب گلکاری ہے
درد سوز وہی ہر موجِ خزاں میں جاری ساری ہے
اپنا جینا راز ہوا جاتا ہے کیوں اے اہلِ چمن
لوگ اسے مجبوری جانیں ہم سمجھیں مختاری ہے

Tuesday, 3 May 2016

درد حیات تیرے فسانے کہاں گئے

دردِ حیات تیرے فسانے کہاں گئے
دل جن سے زندہ تھا وہ ترانے کہاں گئے
جن کے طفیل باغ و بہاراں تھی زندگی
وہ دوست وہ حبیب نہ جانے کہاں گئے
آج ممکن ہو پھر تو دیدۂ نم تازہ کریں
دردِ دل جاگ کہ سوئے ہوئے غم تازہ کریں