ظاہر مقام داد ہے سر کو جھکائیے
ہر داد با مراد ہے سر کو جھکائیے
مقبولِ عام ہوں گے سبھی سانحات پر
یہ کربلا کی یاد ہے سر کو جھکائیے
چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے ان کا نام
اک نعرہ زندہ باد ہے سر کو جھکائیے
ظاہر مقام داد ہے سر کو جھکائیے
ہر داد با مراد ہے سر کو جھکائیے
مقبولِ عام ہوں گے سبھی سانحات پر
یہ کربلا کی یاد ہے سر کو جھکائیے
چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے ان کا نام
اک نعرہ زندہ باد ہے سر کو جھکائیے
ہم اگر مسمار ہونے لگ پڑیں
راستے ہموار ہونے لگ پڑیں
نیند کی توہین ہونے لگ پڑے
سب اگر بیدار ہونے لگ پڑیں
تم اگر باہر نکلنا چھوڑ دو
سرد یہ بازار ہونے لگ پڑیں
دل پریشان ہے چل کوئی بات کر
اے مِرے دلربا عشق کی بات کر
آج مجھ میں سما میری بانہوں میں آ
میں اکیلا ہوں نیلم پری بات کر
بات کرتے ہوئے آج اس نے کہا
چھوڑ رنجش پرانی نئی بات کر
آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے
مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے
خوبصورت اگر دِکھائی دیں
ہم پہ پتھر اُٹھا لیا کیجے
حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے
اس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے
بساطِ خورشیدِ جاں سے آگے اُتار مجھ کو
کہ دشتِ سود و زیاں سے آگے اتار مجھ کو
پڑاؤ میرا یہیں کہیں ہے میں جانتا ہوں
سو بے نشاں کے نشاں سے آگے اتار مجھ کو
کسے خبر ہے کہاں کہاں سے یہ چھیل ڈالے
بدن کے کوہِ گراں سے آگے اتار مجھ کو
کانٹا چُبھا تو پاؤں نے غم کا مزا لیا
ہم نے بھی چُپ کا زہر پیا سر جُھکا لیا
میں کوہ قافِ عشق سے لوٹا تو ایک دن
متروک خواہشوں نے مِرا دل چبا لیا
عجلت پسند شعبدہ گر تھے اسی لیے
خرگوش نہ بنا تو کبوتر بنا لیا
در و دیوار خودکشی کر لیں
ہم جو ناچار خودکشی کر لیں
پھر نہ کہنا مذاق تھا پیارے
واقعی یار خودکشی کر لیں
کام کرنا ہی شرط ہے تو پھر
کیوں نہ اس بار خودکشی کر لیں
نئے چراغ🪔 بناتے ہوئے نہیں ڈرتا
یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا
مرے وسیلے سے جتنے بھی پیڑ روئے ہیں
انہیں میں ہِیر سناتے ہوئے نہیں ڈرتا
حضور آپ ہی روکیں کہ میں تو پاگل ہوں
کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے نہیں ڈرتا