Showing posts with label افتخار فلک. Show all posts
Showing posts with label افتخار فلک. Show all posts

Friday, 29 April 2022

ظاہر مقام داد ہے سر کو جھکائیے

ظاہر مقام داد ہے سر کو جھکائیے

ہر داد با مراد ہے سر کو جھکائیے

مقبولِ عام ہوں گے سبھی سانحات پر

یہ کربلا کی یاد ہے سر کو جھکائیے

چودہ سو سال بعد بھی زندہ ہے ان کا نام

اک نعرہ زندہ باد ہے سر کو جھکائیے

Friday, 21 January 2022

ہم اگر مسمار ہونے لگ پڑیں

 ہم اگر مسمار ہونے لگ پڑیں

راستے ہموار ہونے لگ پڑیں

نیند کی توہین ہونے لگ پڑے

سب اگر بیدار ہونے لگ پڑیں

تم اگر باہر نکلنا چھوڑ دو

سرد یہ بازار ہونے لگ پڑیں

Saturday, 5 June 2021

دل پریشان ہے چل کوئی بات کر

 دل پریشان ہے چل کوئی بات کر

اے مِرے دلربا عشق کی بات کر

آج مجھ میں سما میری بانہوں میں آ

میں اکیلا ہوں نیلم پری بات کر

بات کرتے ہوئے آج اس نے کہا

چھوڑ رنجش پرانی نئی بات کر

Wednesday, 5 May 2021

آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے

 آپ برہم نہ یوں ہوا کیجے

مُسکرا کر ہمیں مِلا کیجے

خوبصورت اگر دِکھائی دیں

ہم پہ پتھر اُٹھا لیا کیجے

حُسن حیرت کا پیش خیمہ ہے

اس عقیدے پہ سر دُھنا کیجے

Sunday, 2 May 2021

بساط خورشید جاں سے آگے اتار مجھ کو

 بساطِ خورشیدِ جاں سے آگے اُتار مجھ کو

کہ دشتِ سود و زیاں سے آگے اتار مجھ کو

پڑاؤ میرا یہیں کہیں ہے میں جانتا ہوں

سو بے نشاں کے نشاں سے آگے اتار مجھ کو

کسے خبر ہے کہاں کہاں سے یہ چھیل ڈالے

بدن کے کوہِ گراں سے آگے اتار مجھ کو

کانٹا چبھا تو پاؤں نے غم کا مزا لیا

 کانٹا چُبھا تو پاؤں نے غم کا مزا لیا

ہم نے بھی چُپ کا زہر پیا سر جُھکا لیا

میں کوہ قافِ عشق سے لوٹا تو ایک دن

متروک خواہشوں نے مِرا دل چبا لیا

عجلت پسند شعبدہ گر تھے اسی لیے

خرگوش نہ بنا تو کبوتر بنا لیا

Friday, 26 March 2021

در و دیوار خودکشی کر لیں

 در و دیوار خودکشی کر لیں

ہم جو ناچار خودکشی کر لیں

پھر نہ کہنا مذاق تھا پیارے

واقعی یار خودکشی کر لیں

کام کرنا ہی شرط ہے تو پھر

کیوں نہ اس بار خودکشی کر لیں

Saturday, 12 December 2020

نئے چراغ بناتے ہوئے نہیں ڈرتا

 نئے چراغ🪔 بناتے ہوئے نہیں ڈرتا

یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا

مرے وسیلے سے جتنے بھی پیڑ روئے ہیں

انہیں میں ہِیر سناتے ہوئے نہیں ڈرتا

حضور آپ ہی روکیں کہ میں تو پاگل ہوں

کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے نہیں ڈرتا