دل پریشان ہے چل کوئی بات کر
اے مِرے دلربا عشق کی بات کر
آج مجھ میں سما میری بانہوں میں آ
میں اکیلا ہوں نیلم پری بات کر
بات کرتے ہوئے آج اس نے کہا
چھوڑ رنجش پرانی نئی بات کر
میں چلا جاؤں گا یہ نگر چھوڑ کر
مختصر ہی سہی اجنبی بات کر
آخری بار میری طرف دیکھ لے
آخری بار مجھ سے مِری بات کر
یوں نہ باتیں بنا دشمنِ جان و دل
تیرے دل میں ہے جو، بس وہی بات کر
میں برائے سخن آ گیا ہوں یہاں
سُن مِری ان سُنی ان کہی بات کر
افتخار فلک
No comments:
Post a Comment