صبر و سکوں کہاں ہے تِرے انتظار میں
دل اختیار میں،۔ نہ نظر اختیار میں
فرقت کی بات تک بھی گوارا نہ تھی جسے
تارے وہ گن رہا ہے شبِ انتظار میں
اللہ رے یہ بادۂ رنگیں کی شوخیاں
زاہد کو پینی پڑ گئی اب کے بہار میں
صبر و سکوں کہاں ہے تِرے انتظار میں
دل اختیار میں،۔ نہ نظر اختیار میں
فرقت کی بات تک بھی گوارا نہ تھی جسے
تارے وہ گن رہا ہے شبِ انتظار میں
اللہ رے یہ بادۂ رنگیں کی شوخیاں
زاہد کو پینی پڑ گئی اب کے بہار میں
حسن سے رسم و راہ ہونے دو
زندگی کو تباہ ہونے دو
اس کی رحمت کی راہ ہونے دو
فرد عصیاں سیاہ ہونے دو
منزل حسن خود قدم لے گی
عشق کو رد براہ ہونے دو
کچھ ایسی کیفیت سے ساقیٔ مستانہ آتا ہے
کہ جیسے رنگ چھلکاتا ہوا پیمانہ آتا ہے
کچھ ایسے بھی ہیں جو محفل میں تشنہ کام رہتے ہیں
نگاہ لطف ہٹتی ہے اگر پیمانہ آتا ہے
یہ کس کی شکل آنکھیں بند کرتے ہی نظر آئی
یہ کس کا نام لب پر خود پیۓ افسانہ آتا ہے
تجھ میں کب حسن بہار گل کی رعنائی نہ تھی
کب ترے جلووں کی اک دنیا تماشائی نہ تھی
زندگی بھر آرزو کا خون ہی ہوتا رہا
لب پہ لیکن ایک دن بھی آہ تک آئی نہ تھی
یہ غلط ہے میرا سجدہ وجہ رسوائی ہوا
رشک محراب حرم کب تیری انگڑائی نہ تھی
اگر دل عشق کے انوار سے معمور ہو جائے
تو پھر یہ ذرہ خود رشکِ چراغِ طور ہو جائے
تم اپنے جلوۂ نوخیز پر یوں ناز کرتے ہو
اگر میرا دلِ خوددار بھی مغرور ہو جائے
فقط اس راز کو اہلِ محبت ہی سمجھتے ہیں
میسر آئے جتنا قُرب،۔ اتنا دور ہو جائے
بہ فرطِ شوق ہر گُل میں تِرے رُخ کی ضیا سمجھے
اگر چٹکا کوئی غُنچہ تو ہم تیری صدا سمجھے
ہمیں دیکھو کہ کب ہم نے بنائے آشیاں ڈالی
مخالف اپنے جب سارے گُلستاں کی فضا سمجھے
بالآخر آج میرا ضبط اُلفت رنگ لے آیا
مجھے ہی جانثار عشق و جانباز وفا سمجھے
راستے زیست کے دشوار نظر آتے ہیں
لوگ الفت سے بھی بیزار نظر آتے ہیں
جس کو دیکھو وہ خریدار ہوا ہے ان کا
ہر طرف مصر کے بازار نظر آتے ہیں
بل ہے ابرو پہ، نظر تیز خدا خیر کرے
آج کچھ حشر کے آثار نظر آتے ہیں
سمیٹ کر ترے جلوؤں کی روشنی میں نے
دل و نگاہ کی دنیا سنوار لی میں نے
مزاجِ حسن کسی طور سے بدل نہ سکا
گوارا سمجھا غمِ ناگوار بھی میں نے
تمام سختیاں راہِ طلب کی سہل ہوئیں
تمہارے نام کی تسبیح جب پڑھی میں نے