Showing posts with label جوہر زاہری. Show all posts
Showing posts with label جوہر زاہری. Show all posts

Monday, 17 April 2023

صبر و سکوں کہاں ہے ترے انتظار میں

 صبر و سکوں کہاں ہے تِرے انتظار میں

دل اختیار میں،۔ نہ نظر اختیار میں

فرقت کی بات تک بھی گوارا نہ تھی جسے

تارے وہ گن رہا ہے شبِ انتظار میں

اللہ رے یہ بادۂ رنگیں کی شوخیاں

زاہد کو پینی پڑ گئی اب کے بہار میں

Monday, 4 April 2022

حسن سے رسم و راہ ہونے دو

 حسن سے رسم و راہ ہونے دو

زندگی کو تباہ ہونے دو

اس کی رحمت کی راہ ہونے دو

فرد عصیاں سیاہ ہونے دو

منزل حسن خود قدم لے گی

عشق کو رد براہ ہونے دو

Wednesday, 26 January 2022

کچھ ایسی کیفیت سے ساقیٔ مستانہ آتا ہے

 کچھ ایسی کیفیت سے ساقیٔ مستانہ آتا ہے

کہ جیسے رنگ چھلکاتا ہوا پیمانہ آتا ہے

کچھ ایسے بھی ہیں جو محفل میں تشنہ کام رہتے ہیں

نگاہ لطف ہٹتی ہے اگر پیمانہ آتا ہے

یہ کس کی شکل آنکھیں بند کرتے ہی نظر آئی

یہ کس کا نام لب پر خود پیۓ افسانہ آتا ہے

Saturday, 15 January 2022

تجھ میں کب حسن بہار گل کی رعنائی نہ تھی

 تجھ میں کب حسن بہار گل کی رعنائی نہ تھی

کب ترے جلووں کی اک دنیا تماشائی نہ تھی

زندگی بھر آرزو کا خون ہی ہوتا رہا

لب پہ لیکن ایک دن بھی آہ تک آئی نہ تھی

یہ غلط ہے میرا سجدہ وجہ رسوائی ہوا

رشک محراب حرم کب تیری انگڑائی نہ تھی

Friday, 24 December 2021

اگر دل عشق کے انوار سے معمور ہو جائے

 اگر دل عشق کے انوار سے معمور ہو جائے

تو پھر یہ ذرہ خود رشکِ چراغِ طور ہو جائے

تم اپنے جلوۂ نوخیز پر یوں ناز کرتے ہو

اگر میرا دلِ خوددار بھی مغرور ہو جائے

فقط اس راز کو اہلِ محبت ہی سمجھتے ہیں

میسر آئے جتنا قُرب،۔ اتنا دور ہو جائے

Saturday, 27 March 2021

بہ فرط شوق ہر گل میں ترے رخ کی ضیا سمجھے

 بہ فرطِ شوق ہر گُل میں تِرے رُخ کی ضیا سمجھے

اگر چٹکا کوئی غُنچہ تو ہم تیری صدا سمجھے

ہمیں دیکھو کہ کب ہم نے بنائے آشیاں ڈالی

مخالف اپنے جب سارے گُلستاں کی فضا سمجھے

بالآخر آج میرا ضبط اُلفت رنگ لے آیا

مجھے ہی جانثار عشق و جانباز وفا سمجھے

Thursday, 21 January 2021

راستے زیست کے دشوار نظر آتے ہیں

 راستے زیست کے دشوار نظر آتے ہیں

لوگ الفت سے بھی بیزار نظر آتے ہیں

جس کو دیکھو وہ خریدار ہوا ہے ان کا

ہر طرف مصر کے بازار نظر آتے ہیں

بل ہے ابرو پہ، نظر تیز خدا خیر کرے

آج کچھ حشر کے آثار نظر آتے ہیں

Monday, 7 December 2020

سمیٹ کر ترے جلوؤں کی روشنی میں نے

 سمیٹ کر ترے جلوؤں کی روشنی میں نے

دل و نگاہ کی دنیا سنوار لی میں نے

مزاجِ حسن کسی طور سے بدل نہ سکا

گوارا سمجھا غمِ ناگوار بھی میں نے

تمام سختیاں راہِ طلب کی سہل ہوئیں

تمہارے نام کی تسبیح جب پڑھی میں نے