جو لوگ اجالے کو اجالا نہیں کہتے
ہم ان کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کہتے
جو جوڑ نہ دے ٹوٹے ہوئے تار دلوں کے
ہم اس کو محبت کا ترانا نہیں کہتے
جینا اسے کہتے ہیں جو ہو اوروں کی خاطر
اپنے لیے جینے کو تو جینا نہیں کہتے
جو لوگ اجالے کو اجالا نہیں کہتے
ہم ان کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کہتے
جو جوڑ نہ دے ٹوٹے ہوئے تار دلوں کے
ہم اس کو محبت کا ترانا نہیں کہتے
جینا اسے کہتے ہیں جو ہو اوروں کی خاطر
اپنے لیے جینے کو تو جینا نہیں کہتے
ہو نہ کچھ بات مگر شور مچائے رکھنا
اس طرح اوروں کو ہمدرد بنائے رکھنا
تم اگر چاہتے ہو سب تمہیں ہنس ہنس کے ملیں
اپنا غم اپنے ہی سینے میں چھپائے رکھنا
دور کرنا نہ کبھی جلووں کو میرے دل سے
اس چمن کو انہیں پھولوں سے سجائے رکھنا
جب کوئی غم ہی نہ ہو اشک بہاؤں کیسے
خُود کو دنیا کی اداکاری سکھاؤں کیسے
تیری ہر ایک جھلک اور بڑھاتی ہے طلب
ایسے میں پیاس نگاہوں کی بُجھاؤں کیسے
خودبخود آنکھوں کے پیمانے چھلک پڑتے ہیں
شدت غم کو چُھپاؤں تو چُھپاؤں کیسے