عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے لب پر نام تِرا
ہے یہ خاص انعام ترا
وہ ذرّہ خُورشید بنا
جس پہ ہُوا اِکرام ترا
کوئی تِرا آغاز نہیں
کوئی نہیں انجام ترا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے لب پر نام تِرا
ہے یہ خاص انعام ترا
وہ ذرّہ خُورشید بنا
جس پہ ہُوا اِکرام ترا
کوئی تِرا آغاز نہیں
کوئی نہیں انجام ترا
درد دل کی دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے
لطف دیتی ہے کیا امید وفا
بے وفا با وفا نہ ہو جائے
کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا
آہ یا رب رسا نہ ہو جائے
جو لوگ اجالے کو اجالا نہیں کہتے
ہم ان کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کہتے
جو جوڑ نہ دے ٹوٹے ہوئے تار دلوں کے
ہم اس کو محبت کا ترانا نہیں کہتے
جینا اسے کہتے ہیں جو ہو اوروں کی خاطر
اپنے لیے جینے کو تو جینا نہیں کہتے
ہو نہ کچھ بات مگر شور مچائے رکھنا
اس طرح اوروں کو ہمدرد بنائے رکھنا
تم اگر چاہتے ہو سب تمہیں ہنس ہنس کے ملیں
اپنا غم اپنے ہی سینے میں چھپائے رکھنا
دور کرنا نہ کبھی جلووں کو میرے دل سے
اس چمن کو انہیں پھولوں سے سجائے رکھنا