Wednesday, 3 June 2026

لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو

 لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو

ہمارے حوصلۂ غم کی کوئی قیمت دو

کسی خیال کے سائے میں رک گئے ہیں لوگ

انہیں چمکتی ہوئی دھوپ کی خبر مت دو

یہ زندگی کا جہنم،۔ یہ گرم و تند ہوا

کہیں سے اس میں بھی شب بھر کی ایک جنت دو

ہماری سانس کو ہے تنگ آسماں کا خلا

ہوا کے پھندوں کو پھینکو، ہمیں فراغت دو

عجب سکون سا دل میں ہے کوئی رنگ نہیں

کوئی خیال جگا دو،۔ کوئی مصیبت دو

سحر کواڑوں پہ ہے کب سے ہاتھ پھیلائے

تم اپنے چہرے کی جاگی ہوئی صباحت دو


ڈاکٹر ذکاءالدین شایاں

No comments:

Post a Comment