لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو
ہمارے حوصلۂ غم کی کوئی قیمت دو
کسی خیال کے سائے میں رک گئے ہیں لوگ
انہیں چمکتی ہوئی دھوپ کی خبر مت دو
یہ زندگی کا جہنم،۔ یہ گرم و تند ہوا
کہیں سے اس میں بھی شب بھر کی ایک جنت دو
ہماری سانس کو ہے تنگ آسماں کا خلا
ہوا کے پھندوں کو پھینکو، ہمیں فراغت دو
عجب سکون سا دل میں ہے کوئی رنگ نہیں
کوئی خیال جگا دو،۔ کوئی مصیبت دو
سحر کواڑوں پہ ہے کب سے ہاتھ پھیلائے
تم اپنے چہرے کی جاگی ہوئی صباحت دو
ڈاکٹر ذکاءالدین شایاں
No comments:
Post a Comment