بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا
نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو
صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے
ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا
نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو
صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے
ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے
مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے
وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں
وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے
میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ
وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے
ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے
مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے
وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں
جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے
مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ
سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے
آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے
بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے
راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے
سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے
میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں
دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے