Showing posts with label واحد سراج. Show all posts
Showing posts with label واحد سراج. Show all posts

Saturday, 15 August 2026

بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا

 بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا

بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا

نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو

صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا

کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے

ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا

Tuesday, 28 April 2026

وہ میرا ہو کے مری دسترس سے باہر ہے

 وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے

مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے

وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں

وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے

میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ

وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے

Monday, 27 April 2026

ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

 ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے

وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں

جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے

مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ

سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے

Sunday, 26 April 2026

آب صحرا کا اشارہ سچ ہو

 آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو

جو نظر آئے خدارا سچ ہو

یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا

ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو

ساری دنیا کے جریدے جھوٹے

تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو

Saturday, 25 April 2026

بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

 بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے

راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے

سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے

میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں

دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے