شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
پوچھتے کیا ہو دردِ محرومی
ہر نفس سازِ غم کا سرگم ہے
ایک دل اور آفتیں لاکھوں
زندگی ہے کہ محورِ غم ہے
ان کی چشمِ حسین کا کیا کہنا
گاہے نشتر ہے، گاہے مرہم ہے
میں ہوں اور کاہشِ الم ناصر
مجھ پہ ان کا یہ لطف کیا کم ہے
ناصر انصاری
No comments:
Post a Comment