Showing posts with label صبا خان. Show all posts
Showing posts with label صبا خان. Show all posts

Thursday, 29 October 2026

نگہ نمناک اور میں

نگہ نمناک اور میں

یہ ٹوٹے خواب، اور میں

مسلسل گردشوں میں

مِرے دن رات، اور میں

نہیں تھے اس کے قابل

مِری اوقات، اور میں

Sunday, 15 February 2026

سرخ پتے میں لپٹی ہلکی گلابی گولی میری مسیحا

 مسیحا


لکھتے لکھتے

انگلیوں کی وہ نرم پوریں

ٹیڑھی میڑھی سی

اور سخت ہو گئی ہیں

پڑھتے پڑھتے

چمکتی آنکھوں کے خواب دُھندلا کے

Monday, 29 September 2025

اک خواب میری آنکھ کا تعبیر ہوا ہے

 اک خواب میری آنکھ کا تعبیر ہوا ہے

جو پہلے ایک رنگ تھا تصویر ہوا ہے

لہجہ بھی آج نرم ہے، الفاظ مہرباں

لگتا ہے کوئی معاملہ گھمبیر ہوا ہے

تُو ہو تو خوشگوار نہ ہو تو اداس ہے

اب موسمِ دل بھی تیری جاگیر ہوا ہے

Sunday, 19 January 2025

طوفان میں نکل پڑے شوریدہ سر سبھی

 طوفان میں نکل پڑے شوریدہ سر سبھی

کار جنوں میں پھرتے ہیں بن کے شرر سبھی

اک صبح مرے شہر کا منظر عجیب تھا

پتھر کے سب مکان تھے، مٹی کے گھر سبھی

اب کون کسے حرفِ تسلی ادھار دے

تیری گلی میں بیٹھے ہیں تشنہ جگر سبھی

Saturday, 8 June 2024

دل کا گھاؤ بہت گہرا ہے

دل کا گھاؤ بہت گہرا ہے


اس نے میری ڈائری پڑھ کر میز پہ رکھی

میں نے اِترا کر پوچھا؛

بولو شاعری کیسی ہے؟

اس نے میری آنکھوں میں

کچھ دیر کو دیکھا

اور پھر اٹھ کر جاتے جاتے

Saturday, 31 July 2021

وہ ایسے لفظ بنتا ہے

 میں اس کی نظم سنتی ہوں

تو سانسیں رک سی جاتی ہیں

وہ دل کے درد کو لفظوں میں کچھ ایسے پروتا ہے

کہ جیسے دور اک ویراں کھنڈر کے نیم محرابی سے کمرے میں

پڑے بوسیدہ سے اک ساز سے کوئی سوز جھڑتا ہو

میں اکثر سوچتی ہوں، درد سے اک درد کا