نگہ نمناک اور میں
یہ ٹوٹے خواب، اور میں
مسلسل گردشوں میں
مِرے دن رات، اور میں
نہیں تھے اس کے قابل
مِری اوقات، اور میں
نگہ نمناک اور میں
یہ ٹوٹے خواب، اور میں
مسلسل گردشوں میں
مِرے دن رات، اور میں
نہیں تھے اس کے قابل
مِری اوقات، اور میں
مسیحا
لکھتے لکھتے
انگلیوں کی وہ نرم پوریں
ٹیڑھی میڑھی سی
اور سخت ہو گئی ہیں
پڑھتے پڑھتے
چمکتی آنکھوں کے خواب دُھندلا کے
اک خواب میری آنکھ کا تعبیر ہوا ہے
جو پہلے ایک رنگ تھا تصویر ہوا ہے
لہجہ بھی آج نرم ہے، الفاظ مہرباں
لگتا ہے کوئی معاملہ گھمبیر ہوا ہے
تُو ہو تو خوشگوار نہ ہو تو اداس ہے
اب موسمِ دل بھی تیری جاگیر ہوا ہے
طوفان میں نکل پڑے شوریدہ سر سبھی
کار جنوں میں پھرتے ہیں بن کے شرر سبھی
اک صبح مرے شہر کا منظر عجیب تھا
پتھر کے سب مکان تھے، مٹی کے گھر سبھی
اب کون کسے حرفِ تسلی ادھار دے
تیری گلی میں بیٹھے ہیں تشنہ جگر سبھی
دل کا گھاؤ بہت گہرا ہے
اس نے میری ڈائری پڑھ کر میز پہ رکھی
میں نے اِترا کر پوچھا؛
بولو شاعری کیسی ہے؟
اس نے میری آنکھوں میں
کچھ دیر کو دیکھا
اور پھر اٹھ کر جاتے جاتے
میں اس کی نظم سنتی ہوں
تو سانسیں رک سی جاتی ہیں
وہ دل کے درد کو لفظوں میں کچھ ایسے پروتا ہے
کہ جیسے دور اک ویراں کھنڈر کے نیم محرابی سے کمرے میں
پڑے بوسیدہ سے اک ساز سے کوئی سوز جھڑتا ہو
میں اکثر سوچتی ہوں، درد سے اک درد کا