Showing posts with label عمران فہم. Show all posts
Showing posts with label عمران فہم. Show all posts

Monday, 21 April 2025

ایک لمحے کو جب رکا ہوں میں

 ایک لمحے کو جب رکا ہوں میں

ہمسفر نے کہا چلا ہوں میں

دیکھتا تک نہیں مجھے کوئی

روشنی میں رکھا دِیا ہوں میں

خاک چھانی کسی نے میرے لیے

اور کسی کے لیے بنا ہوں میں

Monday, 27 January 2025

آنکھوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے

 آنکھوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے

ہنسنے میں بھی گریہ زاری ہوتی ہے

غم کا موسم جب بھی آنے لگتا ہے

سب سے پہلے میری باری ہوتی ہے

اس کی باہوں میں آ کر یہ لگتا ہے

گھر کی جیسے چار دِواری ہوتی ہے

Wednesday, 1 January 2025

میں تخیل میں تجھ کو لاؤں گا

 میں تخیل میں تجھ کو لاؤں گا

ان گنت زاویوں سے پرکھوں گا

دکھ سمجھتا ہوں بے گھری کا میں

چھت سے جالے نہیں اتاروں گا

داغ چھپتا نہیں سفیدی سے

آپ سے جھوٹ کیسے بولوں گا

Thursday, 27 June 2024

رات نے اس طرح ڈرائے لوگ

 رات نے اس طرح ڈرائے لوگ

راستے سے پلٹ کے آئے لوگ

کوزہ گر نے نہیں بنائے تھے

مل گئے تھے بنے بنائے لوگ

بڑی جلدی میں تھی تباہی بھی

بھاگتے بھاگتے بچائے لوگ

Monday, 24 June 2024

زندگی دکھ سمیٹ لاتی ہے

 نام اپنا غلط بتاتی ہے 

ایک آواز جو بلاتی ہے

پھول ہیں کانٹوں کی حفاظت میں

ورنہ تتلی تو ورغلاتی ہے 

پھول چننے کو بھیجتا ہوں میں

زندگی دکھ سمیٹ لاتی ہے