ایک لمحے کو جب رکا ہوں میں
ہمسفر نے کہا چلا ہوں میں
دیکھتا تک نہیں مجھے کوئی
روشنی میں رکھا دِیا ہوں میں
خاک چھانی کسی نے میرے لیے
اور کسی کے لیے بنا ہوں میں
ایک لمحے کو جب رکا ہوں میں
ہمسفر نے کہا چلا ہوں میں
دیکھتا تک نہیں مجھے کوئی
روشنی میں رکھا دِیا ہوں میں
خاک چھانی کسی نے میرے لیے
اور کسی کے لیے بنا ہوں میں
آنکھوں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے
ہنسنے میں بھی گریہ زاری ہوتی ہے
غم کا موسم جب بھی آنے لگتا ہے
سب سے پہلے میری باری ہوتی ہے
اس کی باہوں میں آ کر یہ لگتا ہے
گھر کی جیسے چار دِواری ہوتی ہے
میں تخیل میں تجھ کو لاؤں گا
ان گنت زاویوں سے پرکھوں گا
دکھ سمجھتا ہوں بے گھری کا میں
چھت سے جالے نہیں اتاروں گا
داغ چھپتا نہیں سفیدی سے
آپ سے جھوٹ کیسے بولوں گا
رات نے اس طرح ڈرائے لوگ
راستے سے پلٹ کے آئے لوگ
کوزہ گر نے نہیں بنائے تھے
مل گئے تھے بنے بنائے لوگ
بڑی جلدی میں تھی تباہی بھی
بھاگتے بھاگتے بچائے لوگ
نام اپنا غلط بتاتی ہے
ایک آواز جو بلاتی ہے
پھول ہیں کانٹوں کی حفاظت میں
ورنہ تتلی تو ورغلاتی ہے
پھول چننے کو بھیجتا ہوں میں
زندگی دکھ سمیٹ لاتی ہے