کوئی رستہ بتانے والا نہیں
تم نہیں کوئی آنے والا نہیں
وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا
میں تو تجھ کو منانے والا نہیں
کوئی رستہ بتانے والا نہیں
تم نہیں کوئی آنے والا نہیں
وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا
میں تو تجھ کو منانے والا نہیں
آگ نفرت کی بجھانے کے لیے کافی ہوں
میں تجھے پیار سکھانے کے لیے کافی ہوں
ایک قطرہ ہوں میں دریا تو نہیں ہوں لیکن
میں تِری پیاس بجھانے کے لیے کافی ہوں
میں ہوں کمزور مگر اتنا بھی کمزور نہیں
میں تِرا شہر جلانے کے لیے کافی ہوں
وہ جس نے مجھ کو تڑپایا بہت ہے
مجھے وہ شخص یاد آیا بہت ہے
محبت کی کٹیلی رہگزر میں
خوشی کم اور غم پایا بہت ہے
وہ مجھ کو چھوڑ کر اپنے کیے پر
بہت رویا ہے، پچھتایا بہت ہے
قبر خالی ہے اس کو بھرنا ہے
ایک دن ہر کسی کو مرنا ہے
پہلے سمٹیں گے تیری بانہوں میں
پھر تِرے ہجر میں بکھرنا ہے
قبر میں لوگ کیسے رہتے ہیں
یہ تجربہ ہمیں بھی کرنا ہے