Saturday, 5 March 2022

قبر خالی ہے اس کو بھرنا ہے

قبر خالی ہے اس کو بھرنا ہے

ایک دن ہر کسی کو مرنا ہے

پہلے سمٹیں گے تیری بانہوں میں

پھر تِرے ہجر میں بکھرنا ہے

قبر میں لوگ کیسے رہتے ہیں

یہ تجربہ ہمیں بھی کرنا ہے

دنیا والوں کا خوف کیوں کرنا

ہم کو اپنے خدا سے ڈرنا ہے

صدیوں پہلے جو راہ چھوڑ آئے

پھر اسی راہ سے گزرنا ہے


نورعین ساحر

No comments:

Post a Comment