Showing posts with label شیفتہ. Show all posts
Showing posts with label شیفتہ. Show all posts

Friday, 14 August 2020

شب وصل کی بھی چین سے کیوں کر بسر کریں

 شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں​

جب یوں نگاہبانئ مرغِ سحر کریں​

محفل میں اک نگاہ اگر وہ ادھر کریں​

سو سو اشارے غیر سے پھر رات بھر کریں​

طوفانِ نوح لانے سے اے چشم فائدہ؟​

دو اشک بھی بہت ہیں، اگر کچھ اثر کریں

Saturday, 18 January 2020

ہم ہیں اور حسرت دیدار ترے کوچے میں

روز خوں ہوتے ہیں دو چار تِرے کوچے میں
ایک ہنگامہ ہے اے یار! ترے کوچے میں
شعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا
اپنے حالی مِرے اشعار ترے کوچے میں
تُو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس
ہم ہیں اور حسرتِ دیدار ترے کوچے میں

دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم

کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
دانائیوں سے اچھے ہیں نادانیوں میں ہم
شاید رقیب ڈوب مریں بحرِ شرم میں
ڈوبیں گے موجِ اشک کی طغیانیوں میں ہم
غیروں کے ساتھ آپ بھی اٹھتے ہیں بزم سے
لو میزبان بن گئے مہمانیوں میں ہم

میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا

میں وصل میں بھی شیفتہ حسرت طلب رہا
گستاخیوں میں بھی مجھے پاسِ ادب رہا
تغیر وضع کی ہے، اشارہ وداع کا
یعنی جفا پہ خوگرِ الطاف کب رہا
'میں رشک سے چلا تو کہا، 'بے سبب چلا
'اس پر جو رہ گیا تو کہا، 'بے سبب رہا

رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا

رات واں گل کی طرح سے جسے خنداں دیکھا
صبح بلبل کی روش ہمدمِ افغاں دیکھا
کوئی بے جان جہاں میں نہیں جیتا، لیکن
تیرے مہجور کو جیتے ہوئے بے جاں دیکھا
میں نے کیا جانیے کس ذوق سے دی جاں دمِ قتل
کہ بہت اس سے ستم گر کو پشیماں دیکھا

Wednesday, 7 December 2016

اس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا

اس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا
وہ حسن کہ خورشید کے عہدے سے بر آیا
بے فائدہ ہے وہم کہ کیوں بے خبر آیا
اس راہ سے جاتا تھا ہمارے بھی گھر آیا
کچھ دور نہیں ان سے کہ نیرنج بتا دیں
کیا فائدہ گر آنکھ سے لختِ جگر آیا

دشمن سے ہے میرے دل مضطر کی شکایت

دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایت
کیوں کر نہ کروں شوخئ دلبر کی شکایت
دیوانۂ الفت ادب آموزِ خرد ہے
سودے میں نہیں زلفِ معنبر کی شکایت
تاخیر نہ کر قتلِ شہیدانِ وفا میں
ہر ایک کو ہے تیزئ خنجر کی شکایت

شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں

شوخی نے تیری، لطف نہ رکھا حجاب میں
جلوے نے تیرے، آگ لگائی نقاب میں
آ، نغمہ گر ہو، چرخ میں لا آسمان کو
آ، رقص کر، زمین کو ڈال اضطراب میں
سو مہر کا فروغ ہے واں جلوہ گاہ میں 
سو باغ کی شمیم ہے واں رختِ خواب میں

Wednesday, 3 February 2016

یوں پاس بوالہوس رہیں چشم غضب سے دور

 یوں پاس بوالہوس رہیں چشمِ غضب سے دور​

یہ بات ہے بڑی دلِ عاشق طلب سے دور​

دیوانہ میں نہیں کہ انا لیلیٰ لب پہ آئے​

باتیں خلافِ وضع ہیں اہلِ ادب سے دور​

مجھ کو سنا کے کہتے ہیں ہمدم سے، یاد ہے​

اک آدمی کو چاہتے تھے ہم بھی اب سے دور

اٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستان بادہ فروش

 اٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش

طلسمِ ہوش ربا ہےدکانِ بادہ فروش

کھلا جو پردہ روئے حقائقِ اشیاء

کھلی حقیقتِ رازِ نہانِ بادہ فروش

فسردہ طینتی و کاہلی سے ہم نے کبھی

شباب میں بھی نہ دیکھی دکانِ بادہ فروش

Sunday, 22 November 2015

گور میں یاد قد یار نے سونے نہ دیا

گور میں یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
فتنۂ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیا
واہ اے طالعِ خفتہ! کہ شبِ عیش میں بھی
وہم بے خوابئ اغیار نے سونے نہ دیا
وا رہیں صورتِ آغوش، سحر تک آنکھیں
شوقِ ہم خوبئ دلدار نے سونے نہ دیا

روز غم میں کیا قیامت ہے شب عشرت کی یاد

روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاد
اشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یاد
میری حالت دیکھ لو تغیر کتنی ہو چکی
وصل کے دن دم بہ دم کیوں شیشۂ ساعت کی یاد
میں ہوں بیکس اور بیکس پر ترحم ہے ضرور
حسنِ روز افزوں دلا دینا مِری حالت کی یاد

جی داغ غم رشک سے جل جائے تو اچھا

جی داغِ غمِ رشک سے جل جائے تو اچھا
ارمان عدو کا بھی نکل جائے تو اچھا
پروانہ بنا میرے جلانے کو وفادار
محفل میں کوئی شمع بدل جائے تو اچھا
کس چین سے نظارۂ ہر دم ہو میسر
دل کوچۂ دشمن میں بہل جائے تو اچھا

اس جنبش ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا

اس جنبشِ ابرو کا گِلہ ہو نہیں سکتا
دل گوشت ہے، ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا
کچھ تُو ہی اثر کر، تِرے قربان خموشی
نالوں سے تو کچھ کام مِرا ہو نہیں سکتا
گر غیر بھی ہو وقفِ ستم تو ہے مسلّم
کچھ تم سے بجز جور و جفا ہو نہیں سکتا

Wednesday, 28 August 2013

ہائے اس برق جہاں سوز پر آنا دل کا

ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمئ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے تِرا سلسلۂ زُلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا

Thursday, 13 December 2012

شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ

شیفتہؔ! ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ
صبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچ
اے ستمگر! رگِ جاں میں ہے مری پیوستہ
دَم نکل جائے گا سینے سے مِرے تیر نہ کھینچ
حور پر بھی کوئی کرتا ہے عمل دنیا میں
رنجِ بے ہودہ بس اے عاملِ تسخیر نہ کھینچ

پابندئ وحشت میں زنجیر کے مشتاق

پابندئ وحشت میں زنجیر کے مشتاق
دیوانے ہیں اس زلفِ گِرہ گیر کے مشتاق
بے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش
محروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق
رہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف
اب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق