مدت ہوئی میں
کوئی رومانوی نظم نہیں لکھ پایا
میرے لب کسی کی
جبیں کے بوسے کو ترس گئے ہیں
اگر تم چاہو تو
یہ تسلسل ٹوٹ سکتا ہے
مدت ہوئی میں
کوئی رومانوی نظم نہیں لکھ پایا
میرے لب کسی کی
جبیں کے بوسے کو ترس گئے ہیں
اگر تم چاہو تو
یہ تسلسل ٹوٹ سکتا ہے
وہ لوگ
جنہیں کبھی کسی نے پھول نہیں دیا
جو ویک اینڈ پر کہیں نہیں جاتے
جن کے آنسوؤں سے
کبھی کوئی گلاب نہیں کِھلا
جنہیں بارش کے ہونے
میں چاہتا ہوں کہ
اس شہر کی ہر گلی
ہر چوک
ہر چوراہے میں
تمہاری مسکراہٹ کے پرچم لہرائے جائیں
تاکہ ماحول کی گُھٹن کم ہو
ہم ایک عجیب معاشرے میں رہتے ہیں
ہم کسی خوبصورت پھول کو
کسی خوبصورت منظر کو
فطرت کی دلکشی کو
محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں
تو لوگ کہتے ہیں کہ؛
ہم ایک نئی دنیا بسائیں گے
اور اس دنیا میں
محبوباؤں کے نام پر شہر آباد ہوں گے
جو کسی دیوتا کے نام پر
کبھی بھی جلائے نہیں جائیں گے
جہاں مائیں اپنے بچوں کو گود میں لیے
اخراجات کی فہرست
آج ہی تنخواہ آئی ہے
اخراجات کی فہرست بنا رہا ہوں
مکان کا کرایہ
گھر کا سودا سلف
بجلی و گیس کا بل
انسان کی اوسط عمر 60 سے 70 سال ہے
اور اتنی سی عمر تو
میں تمہاری مداح سرائی میں گزار دوں
تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں جو
ہر وقت حسن اور حسیناؤں میں
گِھرا رہتا ہوں
وبا کے دنوں میں محبت
کیسا حسین ستم ہے کہ
جب ہماری قربت کے موسم آئے
تو شہر میں وبا پھوٹ پڑی
ان دنوں میں تمہارے خد و خال کا تصور کر کے
تمہارے حسن کو
پل بھر میں انسان کی ترجیحات بدل جایا کرتی ہیں
زندگی سے تھکے کینسر کے مریض کو
اپنے وارڈ کی نرس سے محبت ہو جائے تو وہ
زندگی کی دعائیں مانگنے لگ جاتا ہے
وہ چاہتا ہے اُسے کچھ مہلت مل جائے
اور وہ ایک محبت کر لے
تم مجھے ان بكس میں بتا سکتی ہو
کل سے
تمام کاروباری مراکز بند ہوں گے
تم مجھے
ان بكس میں
بتا سکتی ہو کہ
مہندی
مشن کمپلیکیٹڈ اوور اینڈ آؤٹ
جس دن کوریڈور میں تم میرا ہاتھ تھام کر چلو گی
اس دن ناسا کے ہیڈ آفس کے سیٹلائٹ فون پر ایک پیغام گونجے گا
مشن کمپلیکیٹڈ، نظام شمسی میں دو گمشدہ ستاروں نے ایک دوسرے کو پا لیا ہے
اوور اینڈ آؤٹ
میاں وقار
سٹریس اور ڈپریشن میں
تمہیں اجازت ہے
کہ تم مجھے کال کر سکتی ہو
میں تمہیں
قبانی اور جان کیٹس کی وہ رومانوی نظمیں سناؤں گا
جنہیں سن کر تم
میری محبوبہ
میری محبوبہ ان محبوباؤں کے جیسی نہیں
جن کی صحرائی ذات میں انسان کھو جاتا ہے
اور سراب کی حالت میں
تشنہ لب ہی اپنی جان دے دیتا ہے
میری محبوبہ
میں شاید
تمہاری زندگی میں
کچھ اچھا اضافہ نہ کر سکوں
میں شاید
دنیا کے سامنے تمہاری
کوئی خوبصورت شبیہ نہ پیش کر سکوں
خدا نے
عورت کو یہ مہارت دی ہے
کہ محسوس کرنے والوں کے لیے
اس کا ہر اشارہ ایک نظم کی حیثیت رکھتا ہے
اور اس کی ایک سادہ سی ادا بھی
کسی شاعر کے ہر دیوان پر بھاری پڑ سکتی ہے
شاعری ادب کا حقیقی چہرہ ہے
شاعری خوبصورت ہے
شاعری محبت ہے
اور بلاشبہ
کہیں نا کہیں ہمارے جینے کی وجہ شاعری ہی ہے
لیکن
کہیں سنا تھا
شاعر بننے کے لیے ہجر لازم ہے
لکھاری کو ایک چوٹ درکار ہوتی ہے
درد سے فنکار کے فن میں نکھار آتا ہے
لیکن میری زندگی تو
حسین بانہوں کے حصار