میری محبوبہ
میری محبوبہ ان محبوباؤں کے جیسی نہیں
جن کی صحرائی ذات میں انسان کھو جاتا ہے
اور سراب کی حالت میں
تشنہ لب ہی اپنی جان دے دیتا ہے
میری محبوبہ
ان غاروں کے جیسی محبوباؤں جیسی نہیں
جہاں بالکل اندھیرا ہوتا ہے
اور کچھ ہی عرصے بعد انسان کا وہاں دم گھٹنے لگتا ہے
میری محبوبہ تو ایسی ہے
جس سے بات کر کے مجھے اچھا لگتا ہے اور میری روح تک مسکراتی ہے
وہ جب سو بھی رہی ہو اس کے صحن میں تب بھی پھول کِھل رہے ہوتے ہیں
میاں وقار
No comments:
Post a Comment