کوئی ایسی سبیل ہو جائے
عشق میرا وکیل ہو جائے
تُو میری اک نگاہ کو ترسے
اس قدر دل بخیل ہو جائے
آنکھ تصویر اس کو کر لے اگر
درد میں خود کفیل ہو جائے
اس کو بس پیار کی حرارت دو
روح جب بھی علیل ہو جائے
تلخ لہجے سے وار ہوتے ہیں
ختم جب بھی دلیل ہو جائے
نفرتوں کے جہاں میں زریں
پیار میرا قبیل ہو جائے
زریں منور
No comments:
Post a Comment