Monday, 14 June 2021

جو ضرورت مجھے ابھی پڑی ہے

جو ضرورت مجھے ابھی پڑی ہے

کیا تجھے بھی کبھی کبھی پڑی ہے

اس کی تصویر ہے مِرے گھر میں

ایک ہی چیز قیمتی پڑی ہے

اس کا سر کاٹ کے بھی کیا ملتا

جس کو دستار بیچنی پڑی ہے

کوئی جاگا ہے نیند سے اجمل

میری آنکھوں میں روشنی پڑی ہے


اجمل فرید

No comments:

Post a Comment