ان اندھیروں سے پرے اس شبِ غم سے آگے
اک نئی صبح بھی ہے شامِ الم سے آگے
دشت میں کس سے کریں آبلہ پائی کا گلا
رہنما کوئی نہیں نقشِ قدم سے آگے
ساز میں کھوئے رہے سوز نہ سمجھا کوئی
درد کی ٹیس تھی پازیب کی چھم سے آگے
ان اندھیروں سے پرے اس شبِ غم سے آگے
اک نئی صبح بھی ہے شامِ الم سے آگے
دشت میں کس سے کریں آبلہ پائی کا گلا
رہنما کوئی نہیں نقشِ قدم سے آگے
ساز میں کھوئے رہے سوز نہ سمجھا کوئی
درد کی ٹیس تھی پازیب کی چھم سے آگے
ہم سے پوچھا کیا بیتی ہے آخر شب کے ماروں پر
صحرا صحرا رنگ بکھیرے رقص کیا انگاروں پر
اک سایہ شرماتا لجاتا راہ میں تنہا چھوڑ گیا
میں پرچھائیں ڈھونڈ رہا ہوں ٹوٹی ہوئی دیواروں پر
سرگشتہ تھے موج ہوا سے بیت گیا وہ موسم تو ہم
برگ خزاں کی مانند اب آوارہ ہیں کہساروں پر
ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا
برہنہ رات بھی آئی تو سبز موسم تھا
ہلاکتوں کا صِلہ قاتلوں سے کیا ملتا
کہ قطرہ قطرہ لہو کا نظر میں شبنم تھا
بکھرنے ٹوٹنے کا سلسلہ تھا راہوں میں
تمام خوابوں کا تعبیر نامہ ماتم تھا
شام کجلائی ہوئی، رات ابھاگن جیسی
رُت نہیں آتی کسی گاؤں میں ساون جیسی
رنگ ٹیسو میں کھلے ہیں تِری چُنری کی طرح
بَن میں پھولوں کی مہک ہے تِرے آنگن جیسی
اس کی آواز میں ہے سات سُروں کا سنگیت
بات بھی وہ کرے تو بجتی ہے جھانجھن جیسی
غنچہ جو سرِ شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا
پہلو میں بہت دل کو دھڑکتے ہوئے دیکھا
مہندی رچے ہاتھوں نے اٹھایا ہی تھا گھونگھٹ
اک شعلۂ جوالہ لپکتے ہوئے دیکھا
بھولا نہیں احساس تِرے لمس کی خوشبو
تنہائی میں انفاس مہکتے ہوئے دیکھا
تابِ نگاہ تھی تو نظارہ بھی دوست تھا
اس چشمِ نرگسیں کا اشارہ بھی دوست تھا
ٹُوٹا تو آسماں سے خلاؤں میں کھو گیا
جب تک چمک رہا تھا ستارہ بھی دوست تھا
ہم کھیلتے تھے آگ سے جس سن میں اُن دنوں
چنگاریاں تھیں پھُول، شرارا بھی دوست تھا