Showing posts with label عشرت قادری. Show all posts
Showing posts with label عشرت قادری. Show all posts

Friday, 17 February 2023

ان اندھیروں سے پرے اس شب غم سے آگے

 ان اندھیروں سے پرے اس شبِ غم سے آگے

اک نئی صبح بھی ہے شامِ الم سے آگے

دشت میں کس سے کریں آبلہ پائی کا گلا

رہنما کوئی نہیں نقشِ قدم سے آگے

ساز میں کھوئے رہے سوز نہ سمجھا کوئی

درد کی ٹیس تھی پازیب کی چھم سے آگے

Monday, 9 August 2021

ہم سے پوچھا کیا بیتی ہے آخر شب کے ماروں پر

 ہم سے پوچھا کیا بیتی ہے آخر شب کے ماروں پر

صحرا صحرا رنگ بکھیرے رقص کیا انگاروں پر

اک سایہ شرماتا لجاتا راہ میں تنہا چھوڑ گیا

میں پرچھائیں ڈھونڈ رہا ہوں ٹوٹی ہوئی دیواروں پر

سرگشتہ تھے موج ہوا سے بیت گیا وہ موسم تو ہم

برگ خزاں کی مانند اب آوارہ ہیں کہساروں پر

Friday, 6 August 2021

ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

 ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

برہنہ رات بھی آئی تو سبز موسم تھا

ہلاکتوں کا صِلہ قاتلوں سے کیا ملتا

کہ قطرہ قطرہ لہو کا نظر میں شبنم تھا

بکھرنے ٹوٹنے کا سلسلہ تھا راہوں میں

تمام خوابوں کا تعبیر نامہ ماتم تھا

Thursday, 5 August 2021

شام کجلائی ہوئی رات ابھاگن جیسی

 شام کجلائی ہوئی، رات ابھاگن جیسی

رُت نہیں آتی کسی گاؤں میں ساون جیسی

رنگ ٹیسو میں کھلے ہیں تِری چُنری کی طرح

بَن میں پھولوں کی مہک ہے تِرے آنگن جیسی

اس کی آواز میں ہے سات سُروں کا سنگیت

بات بھی وہ کرے تو بجتی ہے جھانجھن جیسی

غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

 غنچہ جو سرِ شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

پہلو میں بہت دل کو دھڑکتے ہوئے دیکھا

مہندی رچے ہاتھوں نے اٹھایا ہی تھا گھونگھٹ

اک شعلۂ جوالہ لپکتے ہوئے دیکھا

بھولا نہیں احساس تِرے لمس کی خوشبو

تنہائی میں انفاس مہکتے ہوئے دیکھا

Monday, 3 May 2021

تاب نگاہ تھی تو نظارہ بھی دوست تھا

 تابِ نگاہ تھی تو نظارہ بھی دوست تھا

اس چشمِ نرگسیں کا اشارہ بھی دوست تھا

ٹُوٹا تو آسماں سے خلاؤں میں کھو گیا

جب تک چمک رہا تھا ستارہ بھی دوست تھا

ہم کھیلتے تھے آگ سے جس سن میں اُن دنوں

چنگاریاں تھیں پھُول، شرارا بھی دوست تھا