Friday, 6 August 2021

ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

 ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

برہنہ رات بھی آئی تو سبز موسم تھا

ہلاکتوں کا صِلہ قاتلوں سے کیا ملتا

کہ قطرہ قطرہ لہو کا نظر میں شبنم تھا

بکھرنے ٹوٹنے کا سلسلہ تھا راہوں میں

تمام خوابوں کا تعبیر نامہ ماتم تھا

گِراں ہے مٹی کا ٹُوٹا ہوا پیالہ اب

یہی وہ ہاتھ ہیں کل جن میں ساغرِ جم تھا

میں زندگی سے شناسا ہوں اس قدر عشرت

نگاہ اٹھتی تھی جس سمت ہُو کا عالم تھا


عشرت قادری

No comments:

Post a Comment