عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے "
طیبہ ہو چشمِ قلب میں، لب پہ درودؐ ہو
ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰﷺ
کتنا فراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے "
طیبہ ہو چشمِ قلب میں، لب پہ درودؐ ہو
ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے
اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰﷺ
کتنا فراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے
میں اپنے خواب خزینوں سے خوب واقف ہوں
تمہارے ساتھ کے لمحوں سے خوب واقف ہوں
کہاں پہ بھٹکے ہوئے دل کو روک لینا ہے
سرابِ عشق کے رستوں سے خوب واقف ہوں
جہاں پہ درج محبت کی داستانیں ہیں
غریب لوگوں کی آنکھوں سے خوب واقف ہوں
اس کے مقابلے میں ذرا کم، بدل گئے
بدلا ہے پہلے یار، تو پھر ہم ،بدل گئے
پنگھٹ نہ جُھولا ہے کوئی، ٹپے نہ بانسری
شہروں کے ساتھ گاؤں بھی پیہم بدل گئے
اپنے ہی روتے عکس پہ جی بھر کے میں ہنسا
یوں قہقہوں میں آنکھ کے سب نم بدل گئے
ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے
بدن کے ملبے میں اپنی تلاش جاری ہے
مکیں ہوں گاؤں کا، دیکھو کہ میری گُھٹّی میں
مِرے عزیز! روایت کی پاسداری ہے
بنے ہیں لوگ سب انجان ایک دُوجے سے
نہیں ہے کچھ بھی، امارت کی تابکاری ہے
فرصت ہو اگر تم کو کسی شام مصور
تصویر کرو دل کے کچھ اوہام مصور
مل جائے حقیقت میں ہو تسکین مجھے بھی
رنگوں سے کہاں ملتا ہے آرام مصور
مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا راز ہے اس میں
تصویر کو دیتا نہیں تُو نام مصور
لذت، وفا، خمار، نشہ، ہے شراب تُو
چمپا کلی، کنول ہے تُو، کھلتا گلاب تُو
تُو حسنِ کائنات ہے، رنگوں میں ہے چھپی
میں رنگ ڈھونڈتا ہوا، اور ایک خواب تُو
یہ آنکھیں، زلف، ہونٹ، صبح و شام، زندگی
مجھ کو ہے زندگی پہ مکمل کتاب تُو
بیاں سے اس لیے بھی آج ماورا دکھ ہے
تمہیں پتہ ہی نہیں یار مجھ کو کیا دکھ ہے
گریز مجھ سے تِرا تو سمجھ میں آتا ہے
رقیب سے یہ مگر تیرا رابطہ، دکھ ہے
تمہاری ذرہ نوازی سے ہے فراوانی
ہمارے شہر میں اب ملتا جابجا دکھ ہے
اس قدر بے مثال، بولتا ہے
کہتے سب ہیں، کمال بولتا ہے
میرا ہر شعر تجھ سے معنی لے
لفظ تیرا خیال،. بولتا ہے
اس کی آنکھوں کی گفتگو پڑھنا
جب خوشی سے نہال، بولتا ہے
ہیں باتیں مجھ سے اور دیکھے کواکب
ہوئے کس طرز سے دیکھو مخاطب
یہ اپنا گھر، وہ خوش اندام حیراں
عجوبہ ہے، مخاطب ہے وہ صاحب
جنہیں منظور ہے بس خاک رہنا
ملے ہیں ان کو سب اونچے مراتب
نہیں موجود پر مثل ہوا ہے، چار سو ہے
اکیلے میں کہ جس کی یاد محو گفتگو ہے
ادائیں، سادگی، شوخی، تغافل، ایک جا ہیں
کوئی تصویر تیرے رنگ میں ہے یا کہ تو ہے
بلا کی تشنگی کا ہو مداوا کس طرح سے
ہر اک منظر پہ ویرانی ہے اور خالی سبو ہے
کیا کمال کرتے ہو
روز کال کرتے ہو
عشق کی امامت میں
قیل و قال کرتے ہو
کہہ کے ایک ہی دن کا
ماہ و سال کرتے ہو
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جانے والوں میں اگر نام نکل آئے مِرا
گاڑی طیبہ کی ہو، انعام نکل آئے مرا
حکم آ جائے کہ روضے پہ لگے ہو نوکر
اس وسیلے سہی کچھ دام نکل آئے مرا
مجھ کو مہلت ہو، رکوں، کام ہو چاہے کوئی
شہرِ طیبہ میں بہت کام نکل آئے مرا