Showing posts with label احمد وصال. Show all posts
Showing posts with label احمد وصال. Show all posts

Saturday, 9 December 2023

جب خلق کائنات ہی عنوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب خلقِ کائنات ہی عنوانِ نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں اِمکانِ نعت ہے "

طیبہ ہو چشمِ قلب میں، لب پہ درودؐ ہو

ہر لفظ با وضو ہو کہ میدانِ نعت ہے

اللہ کا کلام ہے توصیفِ مُصطفیٰﷺ

کتنا فراخ دیکھ لو دامانِ نعت ہے

Saturday, 18 June 2022

میں اپنے خواب خزینوں سے خوب واقف ہوں

 میں اپنے خواب خزینوں سے خوب واقف ہوں

تمہارے ساتھ کے لمحوں سے خوب واقف ہوں

کہاں پہ بھٹکے ہوئے دل کو روک لینا ہے

سرابِ عشق کے رستوں سے خوب واقف ہوں

جہاں پہ درج محبت کی داستانیں ہیں

 غریب لوگوں کی آنکھوں سے خوب واقف ہوں

Friday, 25 March 2022

اس کے مقابلے میں ذرا کم بدل گئے

 اس کے مقابلے میں ذرا کم، بدل گئے

بدلا ہے پہلے یار، تو پھر ہم ،بدل گئے

پنگھٹ نہ جُھولا ہے کوئی، ٹپے نہ بانسری

شہروں کے ساتھ گاؤں بھی پیہم بدل گئے

اپنے ہی روتے عکس پہ جی بھر کے میں ہنسا

یوں قہقہوں میں آنکھ کے سب نم بدل گئے

Thursday, 12 August 2021

ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے

 ترے وصال میں مٹنے کا خوف طاری ہے

بدن کے ملبے میں اپنی تلاش جاری ہے

مکیں ہوں گاؤں کا، دیکھو کہ میری گُھٹّی میں

مِرے عزیز! روایت کی پاسداری ہے

بنے ہیں لوگ سب انجان ایک دُوجے سے

نہیں ہے کچھ بھی، امارت کی تابکاری ہے

Saturday, 17 July 2021

فرصت ہو اگر تم کو کسی شام مصور

 فرصت ہو اگر تم کو کسی شام مصور

تصویر کرو دل کے کچھ اوہام مصور

مل جائے حقیقت میں ہو تسکین مجھے بھی

رنگوں سے کہاں ملتا ہے آرام مصور

مجھ کو نہیں معلوم کہ کیا راز ہے اس میں

تصویر کو دیتا نہیں تُو نام مصور

Wednesday, 14 April 2021

لذت وفا خمار نشہ ہے شراب تو

 لذت، وفا، خمار، نشہ، ہے شراب تُو

چمپا کلی، کنول ہے تُو، کھلتا گلاب تُو

تُو حسنِ کائنات ہے، رنگوں میں ہے چھپی

میں رنگ ڈھونڈتا ہوا، اور ایک خواب تُو

یہ آنکھیں، زلف، ہونٹ، صبح  و شام، زندگی

مجھ کو ہے زندگی پہ مکمل کتاب تُو

Sunday, 7 March 2021

بیاں سے اس لیے بھی آج ماورا دکھ ہے

 بیاں سے اس لیے بھی آج ماورا دکھ ہے

تمہیں پتہ ہی نہیں یار مجھ کو کیا دکھ ہے

گریز مجھ سے تِرا تو سمجھ میں آتا ہے

رقیب سے یہ مگر تیرا رابطہ، دکھ ہے

تمہاری ذرہ نوازی سے ہے فراوانی

ہمارے شہر میں اب ملتا جابجا دکھ ہے

Thursday, 21 January 2021

اس قدر بے مثال بولتا ہے

 اس قدر بے مثال، بولتا ہے

کہتے سب ہیں، کمال بولتا ہے

میرا ہر شعر تجھ سے معنی لے

لفظ تیرا خیال،. بولتا ہے

اس کی آنکھوں کی گفتگو پڑھنا

جب خوشی سے نہال، بولتا ہے

Wednesday, 20 January 2021

ہیں باتیں مجھ سے اور دیکھے کواکب

 ہیں باتیں مجھ سے اور دیکھے کواکب

ہوئے کس طرز سے دیکھو مخاطب

یہ اپنا گھر، وہ خوش اندام حیراں

عجوبہ ہے، مخاطب ہے وہ صاحب

جنہیں منظور ہے بس خاک رہنا

ملے ہیں ان کو سب اونچے مراتب

Tuesday, 19 January 2021

نہیں موجود پر مثل ہوا ہے چار سو ہے

 نہیں موجود پر مثل ہوا ہے، چار سو ہے

اکیلے میں کہ جس کی یاد محو گفتگو ہے

ادائیں، سادگی، شوخی، تغافل، ایک جا ہیں

کوئی تصویر تیرے رنگ میں ہے یا کہ تو ہے

بلا کی تشنگی کا ہو مداوا کس طرح سے

ہر اک منظر پہ ویرانی ہے اور خالی سبو ہے

Monday, 18 January 2021

کیا کمال کرتے ہو

 کیا کمال کرتے ہو

روز کال کرتے ہو 

عشق کی امامت میں

قیل و قال کرتے ہو

کہہ کے ایک ہی دن کا

ماہ و سال کرتے ہو

Sunday, 17 January 2021

جانے والوں میں اگر نام نکل آئے مرا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جانے والوں میں اگر نام نکل آئے مِرا

گاڑی طیبہ کی ہو، انعام نکل آئے مرا

حکم آ جائے کہ روضے پہ لگے ہو نوکر

اس وسیلے سہی کچھ دام نکل آئے مرا

مجھ کو مہلت ہو، رکوں، کام ہو چاہے کوئی

شہرِ طیبہ میں بہت کام نکل آئے مرا